حموربی قدیم بابل کے پہلے شاہی خاندان کا چھٹا اور سب سے مشہور بادشاہ تھا ۔اس کا دورِ حکومت 1810 قبل از مسیح سے شروع ہوکر 1750 قبل از مسیح تک تھا۔
سمیر اور اکاد ’’جنوبی عراق‘‘ کی شہری ریاستوں کو اپنی قلمرو میں شامل کیا اور لرسا کے ایلمی بادشاہ کو شکست دے کر اس کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ مگر فتوحات سے زیادہ اپنے ضابطہ قوانین کی وجہ سے اس نے شہرت پائی۔۔ حموربی کا قانونی ، آئینی اور اخلاقی ضابطہ دنیا کا سب سے قدیم ضابطہ تصور کیا جاتا ہے۔
کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے اکثر ضوابط اسی سے ماخوذ ہیں ۔انجیل میں اس کا نام ام رافیل ’’فرماں روائے شنار‘‘ (سمیر) ہے۔ ضابطہ قوانین میں عدالت ، کھیتی باڑی ، آبپاشی ، جہاز رانی ، غلاموں کنیزوں کی خریدوفروخت ، آقا اور غلام کے تعلقات ، شادی بیاہ ، وراثت ، ڈاکا ، چوری وغیرہ سے متعلق قوانین کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یہ ضابطے پتھر کی تختیوں پر کندہ تھے اورآج برٹش میوزیم میں محفوظ ہیں۔ حموربی نے بکثرت عمارتیں بھی بنوائیں اور نہریں کھدوا کر آبپاشی کا نظام درست کیا۔ ایک زبردست بادشاہ ہونے کے علاوہ حمورابی ایک زبردست کلدانی ساحر و ماہر طلسمات و روحانیات بھی تھا اس کی طلسمات کے موضوع پر سب سے مشہور تصنیف مکاشفات حمورابی ہے جو بابل کے علاقے ایلم کی کهدائی کے دوران محلات کے کھنڈرات سے پتھر کے کتبوں پر کندہ کی ہوئیں برآمد ہوئیں جو کہ برٹش میوزیم میں موجود ہے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا عبرانی لقب اسرائیل تھا۔ لہذاان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے۔ اللہ نے ان کی اولاد میں بڑی برکت عطا کی تھی ۔ اس لیے ابتدا سے ہی بنی اسرئیل بارہ قبیلوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔
اسرائیل میں بارہ قبائل آباد تھے جنہیں بنی اسرائیل کے اجتماعی نام سے پکارا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صرف دو قبائل (آج کے یہودی) توریت پر عمل کرتے ہیں جبکہ باقی اب دس قبائل توریت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ لیکن یہ بھی بنی اسرائیل کا حصہ تھے۔ آج کا شمالی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے نینوا کی اشوریہ قوم نے فتح کرلیا تھا جبکہ جوڈا کے نام سے موسوم جنوبی علاقہ پر صدیوں بعد بابل سے آنے والے حملہ آوروں نے قبضہ کیا۔ جب بابل کے فرماں روا بخت نصر نے یروشلم (موجودہ فلسطین )پر قبضہ کرکے اسرائیلی بادشاہت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو بنی اسرائیل کے بہت سے قبیلے بھاگ کر ایران (فارس) کے قریب غور کے پہاڑوں میں جا بسے اور پھر یہاں سے دیگر خطوں تک پھیل گئے۔
ہزاروں سال سے دنیا میں زمانہ قدیم کے گمشدہ یہودی قبائل کے بارے میں گردش کرنے والی داستانوں کے مطابق ایتھوپیا میں آباد فلاشا یہودیوں اور افغانستان، مشرقی ایران اور پاکستان کے پشتون قبائل کو ان یہودیوں کی نسل سمجھا جاتا ہے۔ پشتون افغانستان میں سب سے بڑا نسلی گروپ اور پاکستان میں دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ خود بعض افغانوں کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق قدیم زمانہ کے یہودیوں سے تھا جبکہ افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم برملا یہ اقرار کرتے رہے کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل کے بن یامین قبیلے سے ہے۔ اس طرح پاکستان اور افغانستان کی نصف آبادی یہودی قبیلے کے بچھڑے بہن بھائیوں پر مشتمل ہے۔
آج کل کے یہودی بھی بنی اسرائیل کی ہی نسل میں سے ہیں۔ اسی طرح وادی قلاش کے لوگوں کے متعلق بھی مختلف کتب میں لکھا ہے کہ ان کا تعلق بھی بنی اسرائیل سے ہی ہے۔
لیکن اب ان گمشدہ قبائل کے متعلق حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کہاں گئے۔ اور کس قوم میں تبدیل ہوگئے۔
بنی اسرائیل کے قبیلوں کے نام کتبِ تاریخ میں کچھ یوں درج ہیں۔
1۔ رئبون
قبیلہ رئبون کا علاقہ بحیرہ مردار کا مشرقی علاقہ جو وادی موجب تک تھا۔ تورات کے مطابق قبیلہ رئبون کی اولاد پر مشتمل ہے جو کہ یعقوب علیہ السلام اور لیاہ کے پہلے بیٹے تھے۔
2۔ شمعون
عبرانی کتاب مقدس کے مطابق قبیلہ یعقوب علیہ السلام اور لیاہ کے دوسرے بیٹے شمعون کی اولاد ہیں۔
3۔ لاوی
تورات کے مطابق قبیلہ لاوی کی اولاد پر مشتمل ہے جو کہ یعقوب علیہ السلام اور لیاہ کے تیسرے بیٹے تھے۔قبیلہ لاوی یا قبیلہ لیوی (Tribe of Levi) بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک ہے۔حضرات موسیٰ و ہارون علیہم السلام نبی اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔جس وجہ سے اس قبیلہ کو خاص عزت ملی۔ کوہ سیناء پر لاویوں کو جب خدا کے انتظام میں اہم ذمہ داریاں تفویض ہوئیں۔ تو اس وقت یہ مان لیا گیا کہ خدا کی رحمت اس قبیلے کے ساتھ ہے۔
4۔ یہودہ
تورات کے مطابق قبیلہ یہودہ کی اولاد پر مشتمل ہے جو کہ یعقوب علیہ السلام اور لیاہ کے چوتھے بیٹے تھے۔یہودی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
5۔ دان
بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک ہے۔کتاب حزقی ایل کے مطابق ان کو زمین کا شمالی حصہ عطا کیا گیا تھا۔ تورات کے مطابق قبیلہ یعقوب علیہ السلام اور بلہاہ کے بیٹے دان کی اولاد ہیں۔
6۔ نفتالی
نفتالی حضرت یعقوب علیہ السلام کے باره بیٹوں میں سے ایک هے۔ اور یہ بنی اسرائیل کے قبیلہ نفتالی کے سربراه (یعنی قبیلہ نفتالی ان کی نسل سے ہیں)۔
7َ۔جاد
جاد بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ ہے، جو کہ ملک سامریہ کے مشرقی حصہ میں آباد تھا۔ اس قبیلہ کے بانی جاد تھے جو کہ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھےـ
8۔ آشیر
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے آشیر کی اولاد سے منسوب قبیلہ
9۔یساکار
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یساکار کی اولاد سے منسوب قبیلہ
10۔زبولون
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے زبولون کی اولاد سے منسوب قبیلہ
11۔یوسف
یہ قبیلہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے منسوب تھا۔
12۔بنیامین
بنیامین حضرت یعقوب علیہ السلام کے سب سے چهوٹے بچے اور ان کی نسل سے جاری قبیلہ ہے۔ یہ قبیلہ بنیامین بیت المقدس پر حکمران تها۔ ان کے بارے میں مختلف کتب میں لکھا۔کہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے۔اور ان کو ہی حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک حیلے سے اپنے پاس مصر میں رکھ لیا تھا۔ اور بعد میں یہ ہی وجہ حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی ملاقات کی بنی۔
اگلے روز آنکھ کھلی تو احاطے میں بھگدڑ مچّی ہوئ تھی-
ہر طرف شور برپا تھا ..." صاحب آ گئے ... صاحب آ گئے !!! "
میں نے کوٹھڑی سے سر نکال کر پوچھا:
" بھئ کون سے صاحب تشریف لا رہے ہیں .... ؟؟ "
"انسپکٹر جنرل صاحب دورے پر ہیں ...." باہر سے کسی نے آواز لگائ-
جیل میں ڈپٹی کمشنر یا سیشن جج آ جائے تو سب الرٹ ہو جاتے ہیں- انسپکٹر جنرل کی آمد پر تو اچھا خاصا تماشا برپا ہوگیا- کہیں جھاڑو دیا جا رہا تھا تو کہیں غسل خانوں کی صفائیاں ہو رہی تھیں- کہیں نمبرداروں اور قیدیوں کو نئے سوٹ بانٹے جا رہے تھے تو کہیں وارڈن اور سنتری اپنے بوٹ چمکا رہے تھے- غرض کہ ہر طرف ہٹّو بچّو کی صدا تھی-
ہم واپس آکر اپنے پلنگ پر لیٹ گئے- انسپکٹر کی آمد پر قیدی بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں- کسی کی مشقّت معاف ہو جاتی ہے تو کسی کو رہائ مل جاتی ہے- لیکن ہم ٹھہرے سیاسی قیدی ، جنہیں کوٹھڑوں میں بند کر کے چابی حکومت اپنی جیب میں رکھ لیتی ہے- کوئ آئے ، کوئ جائے ، ہمیں اس سے کیا !!!
گھنٹے بعد ایک سنتری بھاگا ہوا اندر آیا اور بے ترتیب سانسوں میں بولا ...
صاب ماڑی پر آگیا ہے .... اب تو اُٹھ جاؤ مُلا سائیں !!!
میں اور مولانا لدھیانوی اُٹھ کھڑے ہوئے- لال حسین اختر بھی اپنی کوٹھڑی سے باہر نکل آئے- تھوڑی ہی دیر بعد ملحقہ احاطے سے ایک نہایت ہی شریف اور بھلے مانس شخص برامد ہوا پھر بڑی کرّوفر سے چلتا ہوا ہمارے قریب آیا :
" اسلام علیکم !!! ... مولوی صاحبان کیسے مزاج ہیں ؟؟ "
میں سمجھا کوئ معزز جیل وزیٹر ہے سو عمومی لہجے میں جواب دیا:
" وعلیکم سلام بھائ ... ٹھیک ٹھاک ... آپ سناؤ ؟"
پھر ان صاحب کے پیچھے مؤدب جیل افسران کی قطار برامد ہوئ تو اندازہ ہوا کہ یہی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات ہیں- انہوں نے باری باری ہم سب سے مصافحہ کیا اور بولے:
" آپ حضرات کو کوئ تکلیف ، مشکل یا پریشانی ؟؟ "
میں نے کہا " ہمیں کوئ تکلیف نہیں ہے ... ہم بہت خوش ہیں"
وہ بار بار اصرار کرتے رہے کہ ہم کچھ نہ کچھ پریشانی انہیں ضرور بتائیں- لیکن ہم نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ حکومت سے کوئ رعایت طلب نہیں کرنی- صبر اور شکر کے ساتھ اللہ کے بھروسے پر وقت گزارنا ہے-
کافی تکرار کے باوجود ہم نے کوئ مسئلہ پیش نہ کیا تو وہ خاموش کھڑے ہو گئے ، پھر باہر احاطے میں جا کر گردوپیش پر نظر ڈالنے لگے ، اور آخر غسل خانے کی طرف چلے گئے-
کچھ ہی دیر بعد انہوں نے جیل سپریڈنٹ کو آواز دی-
"اللہ بخش ادھر آؤ .... لیٹرین کا دروازہ کدھر ہے ؟؟"
" سائیں واڈھو کو بولا ہوا ہے ... دو چار روز تک لگ جائے گا دروازہ !!! "
" کل تک ضرور لگ جانا چاھئے .... کچھ تو احساس کرو .... مولوی صاحبان ہیں .... بے پردگی ہوتی ہے !!! "
اس کے بعد وہ ہماری طرف متوّجہ ہوئے اور کہا:
" اور سنائیں ..... کھانا وغیرہ کیسا مل رہا ہے ؟"
میں نے کہا " اللہ کا شکر ہے ، ہمیں کوئ شکایت نہیں !!! "
جاتے جاتے وہ دروازے پر جاکر ایک بار پھر ہماری طرف مڑے اور کہا:
" مولوی صاحبان .... کچھ تو خدمت کا موقع دیا ہوتا .... "
میں نے کہا " اللہ کا شکر ہے .... ہمیں کوئ تکلیف نہیں .... اللہ تعالی آپ کو اخلاق کی بلندیوں پر فائز رکھے !!! "
وہ بار بار ہماری طرف دیکھتے رہے کہ شاید ہم کوئ مطالبہ پیش کریں لیکن ہم ان صعوبتوں پر شاکر تھے جو ختمِ نبوّت کے صدقے ہمارے نصیب میں لکھی گئ تھیں-
دن یونہی گزرتے رہے- زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کٹتی چلی گئ- صبح سویرے کوٹھڑیوں کے تالے کھُلنا ، ڈان اخبار کے ساتھ چاول کی پتھریلی روٹی کھانا اور دال کا شربت پینا- دن کو تھوڑی دیر کےلئے باہر گرم احاطے میں جا بیٹھنا پھر سرِشام تپتی ہوئ اندھیری کوٹھڑوں میں بند ہو جانا .... یہی ہمارا معمول تھا-
چاول کی روٹی کھانے کی وجہ سے ہم سب دانتوں کی تکلیف کا شکار ہونے لگے- مجھے بلڈ پریشر کا عارضہ بھی تھا- اندھیری کوٹھڑی میں گھبراہٹ اور تکلیف سے کروٹیں بدلتے ہوئے رات گزرتی - لیکن ان حالات مں بھی باجماعت نمازوں ، قران اور ذکراذکار سے ایک لمحے کےلئے غافل نہ ہوئے- اللہ کی بارگاہ میں جب بھی ہاتھ اٹھائے ہمیشہ کلمہء شکر ہی زبان سے نکلا ، کبھی گلہ نہ کیا کہ عشقِ رسول ﷺ کا یہی تقاضا تھا-
پندرہ روز بعد انسپکٹر جنرل دوبارہ تشریف لائے-
اگرچہ ان سے واقفیّت ہو چکی تھی ، لیکن اس کے باوجود ہم نے ان کے روبرو کسی قسم کا گلہ یا شکایت پیش نہ کرنے کا عزم کر رکھا تھا- میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا صبر سے کام لینا اور کچھ نہ کہنا ، صرف میں بات کرونگا-
علیک سلیک کے بعد وہ کمرے میں تشریف لائے- صفائ ستھرائ دیکھ کر خوش ہوئے پھر کہا کرسیاں کہاں ہیں ؟
ہم نے حیرت سے کہا " کیسی کرسیاں ؟"
انہوں نے فوراً سپریڈنٹ کو آواز دی :
" اللہ بخش .... ابھی اور اسی وقت مولوی صاحبان کےلئے میز اور کُرسیاں منگواؤ .... میں یہیں کھڑا ہوں .... اور آئیندہ ایسی غفلت نہیں ہونی چاھئے"
سپاہی کرسیاں لینے دوڑ پڑے- انسپکٹر صاحب غسل خانے کی طرف گئے اور ہر چیز کا اچھّی طرح جائزہ لیا- لکڑی کے نئے دروازے کو ٹھوک بجا کر دیکھا- اس دوران ہم نے ایک چارپائ گھسیٹ کر صحن میں رکھّی اور کہا:
"جنرل صاحب تشریف رکھیں !!! "
وہ بیٹھ گئے- کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر بولے:
" دن بھر کیا مصروفیّات ہوتی ہیں آپ حضرات کی ؟ "
میں نے کہا نماز پڑھتے ہیں ، تلاوت کرتے ہیں ، ذکر اذکار کرتے ہیں .... اور ہم کر بھی کیا سکتے ہیں-
فرمانے لگے صحت قائم رکھنے کےلئے ہلکی پھلکی ورزش بھی ہونی چاھئے-
میں نے کہا آپ جی بھر کے ورزش کیجئے .... ہم تو نظربند ہیں-
وہ کچھ دیر سوچتے رہے پھر کہنے لگے کیوں نہ اس احاطے میں ایک باغیچہ بنایا جائے .... کھدائ کا کام مشقّتی کریں گے ... آپ صرف نگرانی کیجئے گا .... ہلکی پھلکی مصروفیت بھی رہے گی اور سبزی ترکاری بھی خوب اگے گی-
یہ کام ہماری منشاء کے مطابق تھا- چنانچہ فوراً مشقتیوں کو حکم ہوا کہ احاطے کی پتھریلی زمین کھود کر اس میں تازہ مٹّی بھری جائے اور باغیچہ بنانا شروع کیا جائے-
تھوڑی دیر میں ہمارا فرنیچر بھی آگیا- جس میں کرسیاں میز اور سامان رکھنے کے واسطے ڈولیاں شامل تھیں-
اگلے نصف گھنٹے میں جنرل صاحب کافی بے تکلّف ہو چکے تھے-
جب رخصت ہونے لگے تو بولے:
" آپ حضرات خدمت کا موقع ہی نہیں دیتے .... کوئ تکلیف ، کوئ مسئلہ ، کچھ تو بتاؤ ؟"
مولانا لال حسین اختر صبر نہ کر سکے اور ایسے پھٹے کہ لٹیا ہی ڈبو دی :
" صاحب ... بس ایک تکلیف ہے ..... حکومت نے ختم نبوّت تحریک کی پاداش میں ہمیں سی کلاس میں رکھا .... کوئ گلہ نہیں .... ہمارے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا .... کوئ غمّ نہیں .... ہمارے ساتھ جو چاھے سلوک کیجئے .... ..... ہم بخوشی برداشت کریں گے .... لیکن خدارا ماسٹر صاحب پر رحم کھائیے ... ان کی عمر کا خیال کیجئے .... بلڈ پریشر کے مریض کو رات بھر اندھیری کوٹھڑی میں رکھنے کی کیا تک ہے ؟؟ .... یہ چاول کی روٹی چبا نہیں سکتے .... ایک ماہ سے دال پی پی کر گزارا کر رہے ہیں .... اگر قسطوں میں قتل کرنا ہے تو ہم حاضر ہیں .... ماسٹر صاحب کو تو چھوڑ دیجئے !!! "
جنرل صاحب یہ سن کر ہکّا بکّا رہ گئے- چہرے پر ایک رنگ آئے ایک جائے- پہلے انہوں نے نے سپریڈنٹ اللہ بخش کو جھاڑا پھر پاس کھڑے ڈاکٹر کو ڈانٹ پلائ- اس کے بعد کہا:
"بخدا مجھ سے غفلت ہوئ .... میں نے سپریڈنٹ کو آپ حضرات کا خاص خیال رکھنے کا کہا تھا .... آپ حضرات کے چہروں پر اطمینان اور خوشی دیکھ کر یہی سمجھتا رہا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے .... مجھے معاف کر دیجئے !!! "
اگلے روز سے چاول کی روٹی رخصت ہوئ اور گندم کی روٹی بحال ہو گئ اور رات کو ہم کھلے احاطے میں چارپائیاں ڈال کر تازہ ہوا میں سونے لگے-
برصغیر کی ڈھائی ہزار سالہ قدیم یونیورسٹی جو وقت کے ہاتھوں تاریخ کے صفحات میں گم ہوگئی۔ گندھارا تہذیب کے تاج میں 'دھرما راجیکا' کی حیثیت ایک بے بہا اور چمکتے ہوئے ہیرے جیسی ہے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے ٓاپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس کے بارے کچھ بتاتے ہیں۔
تھوڑا تصور کریں اور اس زمانے کی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک طرف دنیا میں جنگ و جدل کی بگلیں چیختی ہوئی سنائی دیں گی؛ روم میں جنگیں ہو رہی تھیں، دجلہ کے کنارے پر خون بہایا جا رہا تھا، اور اناطولیہ میں نیلے آسمان پر بغاوتوں کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔

دوسری طرف چین میں 'کن شی ہوانگ' (Qun Shi Huang) ملک میں رابطوں میں وسعت پیدا کرنے کے لیے تین رویہ سڑکیں اور ان کے کناروں پر درختوں کی قطاریں لگا رہا تھا۔ یونانی ماہر ریاضی اور فلکیات 'کینن' (Canon) اپنی چوتھی کتاب پر کام کر رہا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شمال مغربی علاقوں کے بہت سے یونانیوں نے بدھ مت قبول کرلیا تھا۔ چنانچہ مشہور بھکشو 'دھرما راجیکا'، جو خود ایک یونانی تھا، کو اشوک نے یونانی نوآبادیوں میں تبلیغ کے لیے ٹیکسلا بھیجا۔
اشوکا دو بار ٹیکسلا میں گورنر رہ چکا تھا، اس نے جب اپنے باپ 'بندوسار' کے بعد حکومت سنبھالی تو باپ اور دادا کے جنگی جنون نے اس سے بھی سکھ، شانتی اور سکون چھین لیا اور جنون تھا ملک کی سرحدیں بڑھانے کا۔ اس نے 'کلنگا' پر حملہ کیا اور انسانوں کے بہتے ہوئے خون میں اپنی کامیابی کے بیج بو دیے۔ لاکھوں انسانوں کی بے بس اور بے نور آنکھوں نے اشوکا سے اس کا سکون چھین لیا۔ اپنے کھوئے ہوئے سکون کو واپس لانے کے لیے اس نے اپنے سارا دھیان انسانوں کی بھلائی کے لیے لگا دیا ۔
'دھرما راجیکا' ٹیکسلا میں پہلی بدھ خانقاہ تھی جو اشوک نے بنوائی۔ اشوکا نے اپنی سلطنت میں آٹھ مقامات پر ایسے اسٹوپا بنوائے جن میں گوتم بدھ کے پہننے کی چیزیں محفوظ کر دی تھیں، ٹیکسلا کا یہ اسٹوپا ان سب میں سے ایک تھا۔
اشوک اعظم سے کنشک تک وادیٔ سندھ کی تہذیب نے بدھ مت کے سائے میں فروغ پایا تھا۔ چنانچہ اس دور کی فنی تخلیقات کی محرک بھی وہ گہری عقیدت تھی جو ہر طبقے کے لوگوں کو گوتم بدھ کی ذات اور تعلیمات سے تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب 'بھکشو' بھی عوام کی سادہ زندگی گذارتے تھے۔ وہ گاؤں گاؤں تبلیغ کرتے پھرتے، بھیک سے پیٹ بھرتے اور رات ہوتی تو کسی باغ میں درخت کے نیچے سو رہتے۔
ٹیکسلا نے اپنی علم دینے کی روایت کو صدیوں تک قائم رکھا اور یہ سب شاید اس لیے ممکن ہوسکا کہ یہاں کا معاشرہ نہایت محفوظ معاشرہ تھا۔ لوگ بڑے امن پسند اور صلح جو تھے۔ لوٹ مار، قتل و غارت گری ان کا شیوہ نہ تھا۔ وہ نہ سپاہ و لشکر رکھتے تھے اور نہ کسی ملک پر حملہ کرتے تھے۔ اسی سکون بھرے آسمان کی بدلیوں سے علم و فلسفے کی جھڑیاں لگتی تھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو برصغیر میں علم و ادب کا یہ سب سے بڑا مرکز نہ ہوتا۔
بدھ بھکشو اور طالبعلم شہر کے شور و غل سے دور رہنے کے عادی تھے، اسی وجہ سے سرکپ کے جنوب مشرق میں، پہاڑیوں میں گھری ایک عظیم جامع دھرما راجیکا تھی جس میں دنیا بھر سے سینکڑوں تشنگان علم اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔ بدھ بھکشوؤں کی یونیورسٹی دھرما راجیکا اسٹوپا کا شمار برصغیر کی قدیم ترین اسٹوپا میں ہوتا ہے۔
ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کرکے بہت سا خزانہ جمع کیا تھا۔ اور شہر سے باہر جنگل بیابان میں ایک خفیہ غار میں چھپا دیا تھا اس خزانہ کی دو چابیاں تھیں ایک بادشاہ کے پاس دوسری اس کے معتمد وزیر کے پاس ان دو کے علاوہ کسی کو اس خفیہ خزانہ کا پتہ نہیں تھا۔.ایک دن صبح کو بادشاہ اکیلا سیر کو نکلا۔ اور اپنے خزانہ کو دیکھنے کے لئے دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگیا۔ خزانے کے کمروں میں سونے چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ ہیرے جواہرات الماریوں میں سجے ہوئے تھے۔ دنیا کے نوادرات کونے کونے میں بکھرے ہوئے تھے۔ وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔. اسی دوران وزیر کا اس علاقہ سے گذر ہوا۔ اس نے خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا اسے خیال ہوا کہ کل رات جب وہ خزانہ دیکھنے آیا تھا شاید اس وقت وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا ہو اس نے جلدی سے دروازہ بند کرکے باہر سے مقفل کردیا۔. ادھر بادشاہ جب اپنے دل پسند خزانہ کے معائنہ سے فارغ ہوا تو واپس دروازہ پر آیا لیکن یہ کیا...؟ دروازہ تو باہر سے مقفل تھا اس نے زور زور سے دروازہ پیٹنا اور چیخنا شروع کیا لیکن افسوس اس کی آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا ۔ وہ لوٹ کر پھر اپنے خزانے کی طرف گیا اور ان سے دل بہلانے کی کوشش کی لیکن بھوک اور پیاس کی شدت نے اسے تڑپانا شروع کیا وہ پھر بھاگ کر دروازہ کی طرف آیا لیکن وہ بدستور بند تھا۔ وہ زور سے چیخا چلایا۔ لیکن وہاں اس کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا وہ نڈھال ہوکر دروازے کے پاس گرگیا۔. جب بھوک پیاس سے وہ بری طرح تڑپنے لگا تو رینگتا ہوا ہیروں کی تجوری تک گیا اس نے اسے کھول کر بڑے بڑے ہیرے دیکھے جن کی قیمت لاکھوں میں تھی اس نے بڑے خوشامدانہ انداز میں کہا اے لکھ پتی ہیرو! مجھے ایک وقت کا کھانا دیدو۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ ہیرے زور زور سے قہقہے لگا رہے ہوں۔ اس نے ان ہیروں کو دیوار پر دے مارا۔ پھر وہ گھسٹتا ہوا موتیوں کے پاس گیا اور ان سے بھیک مانگنے لگا ۔ اے آبدار موتیو! مجھے ایک گلاس پانی دیدو ۔ لیکن موتیوں نے ایک بھر پور قہقہہ لگایا اور کہا اے دولت کے پجاری کاش تو نے دولت کی حقیقت سمجھ لی ہوتی۔ تیری ساری عمر کی کمائی ہوئی دولت تجھے ایک وقت کا کھانااور پانی نہیں دے سکتی۔. بادشاہ چکرا کر گرگیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے سارے ہیرے اور موتی بکھیر کر دیوار کے پاس اپنا بستر بنایا اور اس پر لیٹ گیا وہ دنیا کو ایک پیغام دینا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس کاغذ اور قلم نہیں تھا ۔ اس نے پتھر سے اپنی انگلی کچلی اور بہتے ہوئے خون سے دیوار پر کچھ لکھ دیا۔. حکومتی عہدیدار بادشاہ کو تلاش کرتے رہے لیکن بادشاہ نہ ملا, جب کئی دن کی تلاش بے سود کے بعد وزیر خزانہ کا معائنہ کرنے آیا تو دیکھا بادشاہ ہیرے جواہرات کے بستر پر مرا پڑا ہے۔ اور سامنے کی دیوارپرخون سے لکھا ہے ۔ ’’یہ ساری دولت ایک گلاس پانی کے برابر بھی نہیں ہے"
حیدرآباد کا سورج اپریل سے ہی وہ قہر برسانے لگتا ہے کہ خدا کی پناہ !!!
میرا نام زیڈ - زیڈ احمد ہے اور میں گزشتہ چھ ماہ سے بحیثیّت انسپکٹر جرنل جیل یہاں تعیّنات ہوں-
دن کو یہاں سرخ آندھی چلتی ہے تو گرم ریت اڑ اڑ کر چہرے کو جھلسانے لگتی ہے- رات کو ایسی حبس کہ پسینہ کپڑوں سے خود بخود نچڑنے لگتا ہے-
حیدرآباد کی یہ جیل خطرناک لوگوں کا سینٹر ہے- انگریز بھی اپنے خطرناک دشمنوں کو کالا پانی کی بجائے یہیں بھیجنا پسند کرتا تھا- دن کو جب درجہء حرارت 126 فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے تو کنکریٹ کے ڈربّے کسی تپتے ہوئے تندور کا روپ دھار لیتے ہیں- گھڑوں میں رکھا پانی تک ابل جاتا ہے-
جیل میں تین طرح کے ڈربّے ہیں- سب سے اوپر اے کلاس ہے جس میں "کھڑ پڑ" کرنے والے خراب حکومتی پرزے ، اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ سیاستدان ، اور کرپٹ بیوروکریٹ آرام فرماتے ہیں- یہاں پلنگ ، کرسیاں ، میز تپائ ، کمبل ، ریڈیو سب کچھ میسر ہے- دھڑکن چیک کرنے کو ڈاکٹر ہے اور پیٹ بھرنے کو باورچی -
اس کے نیچے B کلاس ہے - یہاں " ناپسندیدہ سیاسی ورکرز" ، پڑھے لکھّے ڈاکو اور سچ لکھنے والے صحافی بند کئے جاتے ہیں- انہیں لوہے کی چارپائیاں ، دری ، تکیہ اور کرسی کے علاوہ کچا راشن بھی مہیا کیا جاتا ہے جسے وہ خود پکا کر کھاتے ہیں-
بچا کھچا مال C کلاس کے پھٹیچر ڈربوں میں رکھا جاتا ہے - چور ، ڈاکو ، جیب کترے ، موالی ، غُنڈے ، چرسی کچھ روز یہاں آکر رونق لگاتے ہیں .... پھر اپنے اپنے دھندے پہ نکل کھڑے ہوتے ہیں- سونے کےلئے فرشی بچھونے ہیں اور کھانے کو چاول کی سخت روٹی ...... اور جیل کی دال تو ویسے بھی مشہور ہے ... !!!
10 اپریل کی صبح میں اپنی ڈیوٹی پر پہنچا تو سپریڈنٹ اللہ بخش خلافِ توقع جیل گیٹ پر کھڑا نظر آیا-
" سائیں ... رات کاراچی سے وڈّے وڈے خطرناک مُلّے لوک آئے ہیں "
" مولوی لوگ ؟ کتنے ؟ " میں پریشان ہو گیا-
" رات کو تو 12 مولبی آیا تھا ... 8 اساں سویر موکلے چھڈیا سکھر جیل ... باقی 3 اساں وٹائے ... "
" اچھا ان تینوں پہ نظر رکھّو .... کسی سے ملنے نہ پائیں" میں نے رجسٹری حاضری دیکھتےہوئے کہا-
" تواں فکر نہ کریو سائیں .... میں نے ان پر تینوں پر گارڈ لگا دیا ہے "
11 بجے نمبردار یہ خبر لے کر آیا کہ مولوی لوگ ساتھ والی کوٹھڑی میں سیاسی کارکنان کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے ہیں-
میں نے ڈانٹ کر کہا " منع کرو .... اور پہرہ بڑھا دو !!! "
دو بجے جب میں چھٹی کر کے گھر جانےلگا تو یاد آیا کہ بیگم صاحبہ نے پانی کی بوتل دی تھی- ان دنوں ہمارا نومولود رات بھر روتا تھا اور زوجہ کا عقیدہ تھا کہ خدا ڈنو شاہ کے دم سے ہی آرام آئے گا- میں اگرچہ ان مذھبی ٹوٹکوں کو نہیں مانتا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ، بیگم صاحبہ تو مانتی ہیں-
اس گرمی میں پکاّ قلعہ جا کر خُدا ڈنّو شاہ سے پانی دم کروانا آسان نہ تھا- میں گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگا کہ کیا کروں-
اس دوران سپریڈنٹ اپنی نائٹ پاس کی درخواست لیکر میرے پاس حاضر ہوا-
" اللہ بخش ... مولوی لوگ کس بیرکس میں ہے .... ؟؟ "
" دو سو چوّن میں پڑا ہے .... تواں فکر نہ کریو سائیں "
" اچھا ایسا کرو .... اپنی درخواست مجھے پکڑاؤ .... اور یہ بوتل کسی مولبی سے دم کرا کے لے آؤ "
اللہ بخش مجھے حیرت سے گھورتا ہوا بوتل پکڑے اندر چلا گیا-
تقریباً دس منٹ بعد وہ بڑی عقیدت سے بوتل پکڑے لوٹا تو میں سمجھ گیا کہ دم ہو چکا ہے-
"اللہ بخش مولوی لوگ کا خیال رکھنا .... کوئ تکلیف نہیں ہونی چاھئے ... ٹھیک ہے ؟ " اللہ بخش کی عرضی سائن کرتے ہوئے میں نے کہا-
"جو آپ کی مرضی سائیں .... ہم سنتری کو سمجھا دے گا ... "
راستے میں کچھّی پل کے پاس گاڑی اچانک گرم ہو گئ- مجبوراً وہی بوتل کارپوریٹر میں انڈیلنا پڑی- ویسے بھی اس رات نہ تو ہمارے ننّھے مہمان نے شور کیا نہ ہی بیگم صاحبہ کو دم والی بوتل یاد رہی- میں اس یقین کے ساتھ سو گیا کہ اللہ بخش نے مولوی لوگ کی آسائش کا ضرور خیال رکھا ہوگا-
اگلے روز آفس پہنچتے ہی میں نے سپریڈنٹ کو بلا کر کہا:
" اللہ بخش .... مولوی لوگ کیسا ہے ؟؟ "
" سائیں .... خُش باش بھلا چنگا ہے .... دعائیں دیتا ہے آپ کو ... " اس نے حسبِ عادت مجھے خوش کرنے کی کوشش کی-
" جیل میں کوئ اے کلاس ڈبّہ خالی ہے ؟؟"
" کیوں سائیں کوئ نیا لیڈر آنے والا ہے کیا ؟؟ "
" نہیں یار میں چاہ رہا تھا کہ مولوی لوگوں کو کسی اچھے ڈبّے میں شفٹ کیا جائے ... دوسو چوّن تو نری دوزخ ہے یار !!! "
" سائیں شمالی حصّے میں باندی زنانو کا جو احاطہ ہے ناں .... وہاں دو ڈبے خالی ہیں .... ؟ " وہ داڑھی کجھاتا ہوا بولا-
جیل کا یہ وارڈ 302 کے کیس میں گرفتار خواتین کےلئے مخصوص تھا اور کافی عرصہ سے خالی پڑا تھا- یہاں دو برابر کوٹھڑیاں تھیں- جن کے سامنے ایک بہت بڑا احاطہ تھا اور کمروں سے پیچھے ایک غسل خانہ اور لیٹرین بھی تھی-
میں نے کہا " ٹھیک ہے .... شفٹ کرنے سے پہلے وہاں اچھی طرح صفائ کرا دو .... اور آج ہی مولوی حضرات کو وہاں شفٹ کر دو .... دو دن بعد میں راؤنڈ لونگا .... کوئ شکایت نہیں آنی چاھئے !!! "
" تواں فکر نہ کرو سائیں .... ہو جائے گا ... "
عین چھُٹّی کے ٹائم حوالدار یار محمد ڈاک لیکر آ گیا-
"سائیں ایک ارجنٹ چٹھی ہے .... آپ کے لئے ... "
سرکاری و سیاسی قیدیوں کےلئے جب بھی مرکز سے کوئ خاص ھدایت آتی تو سربمہر ہوتی تھی اور اسے سیدھا مجھ تک پہنچایا جاتا تھا- ان دنوں راولپنڈی سازش کیس کے ملزمان بھی اسی جیل میں قید تھے- میں نے سوچا شاید سینئر فوجی افسران کے بارے میں کوئ تازہ ھدایت آئ ہے-
چٹھی پڑھ کر ماتھا ٹھنکا ... لکھا تھا :
" کراچی سے سات خطرناک مولوی اندرون سندھ کی جیلوں میں بھیجے جا رہے ہیں .... ان میں سے سید عطاءاللہ شاہ بخاری ، ابولحسنات سید احمد قادری ، سید مظفرحسین شمسی ، سیّد عبدالحامد بدایونی ، صاحبزادہ سیّد فیض الحسن ، اور اللہ نواز کو سکھر جیل بھیجا جا رہا ہے اور ماسٹر تاج الدین انصاری ، مولانا لال حسین اختر اور نیاز لدھیانوی کو حیدر آباد جیل منتقل کیا جا رہا ہے- جیل حکام کو تاکید کی جاتی ہے کہ ان ملاؤں سے جس قدر ہو سکے سختی برتے .... نرمی کی اطلاع پر اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کاروائ عمل میں لائ جائے گی"
ہمارے اوپر والے بھی عجیب ہیں- چھ ماہ پہلے یہاں بھوبت نامی ایک ڈاکو لایا گیا تھا- اس کے پکڑے جانے پر ڈان اخبار میں بڑے بڑے فوٹو چھپے تھے اور اہلکاروں کو کافی انعام بھی ملا تھا- آج کل وہی بھوبت جیل میں A کلاس کا لطف اٹھا رہا ہے- شاید اس لئے کہ وہ کانگریس مخالف ڈاکو تھا - دوسری طرف مولوی حضرات چونکہ مسلم لیگ کے مخالفوں میں شمار کئے جاتے ہیں سو ان پر عرصہء حیات تنگ کیا جا رہا ہے- کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے نمرود فرعون اور شداد کی روحیں جہنم سے چھٹی لیکر ارض پاک پر اتر آئ ہوں ....
کہنے کو تو میں یہاں سیاہ و سفید کا مالک ہوں اور میری آمد پر جیل کے سپاہی سے لیکر سپریڈنٹ تک سب الرٹ ہو جاتے ہیں لیکن میری بھی کچھ مجبوریاں ہیں- جیل حکام میں سے کون کون اندر کی بات اوپر پہنچا کر میرے تابوت میں کیلیں ٹھونکتا ہے ، سچّا رب ہی جانتا ہے لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ کوئ بھی گورنمنٹ مخبروں کے بغیر نہیں چل سکتی-
سچ تو یہ ہے کہ مولوی حضرات ، جنہیں ابھی تک میں نے دیکھا بھی نہ تھا ، ان کےلئے میرے دل میں ایک نرم گوشہ ضرور پیدا ہو چکا تھا- اس نرم گوشے کو آپ عقیدت بھی کہ سکتے ہیں اور محبّت بھی !!!
یہ تو تھی میری کہانی ... باقی آپ مولوی حضرات کی زبانی سن لیجئے گا "
"اس کا مطلب ہے آپ قیدیوں سے ہماری ملاقات کروا رہے ہیں ... " چاند پوری نے چائے کی پیالی رکھتے ہوئے کہا-
" کیوں نہیں .... آپ خواجہ شریف آف سرامکی کا رقعہ لیکر آئے ہیں .... کچھ کرنا تو پڑے گا .... لیکن ایک شرط ہے کہ آپ کچھ چھاپئے گا نہیں .... ورنہ .... " جیلر نے جواب دیا-
" آپ بے فکر رہیں .... ویسے بھی اس حکومت سے خیر کی کوئ توقع نہیں .... ہو سکتا ہے مستقبل کا کوئ مؤرخ ہمارے چھوڑے ہوئے مسوّدات سے فیض حاصل کر سکے .... "
" ٹھیک ہے .... ہم رات گیارہ بجے اسیران سے آپ کی خفیہ ملاقات کا انتظام کرتے ہیں !!! "
کریسنٹ جھیل جسے چینی زبان میں 'Yueyaquan' کہتے ہیں چاند کی شکل کی جھیل ہے۔ جوکہ Dunhuang شہر کے جنوب میں 6 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کریسنٹ جھیل کا پانی بہت صاف اور شفاف ہے کہ دیکھنے میں یہ ہیرے کی طرح لگتا ہے۔ کریسنٹ جھیل کے ساتھ ایک پگوڈا ہے جو روایتی ہان چینی فن تعمیر میں سے ہے۔ یادگار چیزوں سے سجے سٹالوں کے ساتھ اہتمام ایک سڑک داخلی دروازے سے کمپلیکس کی طرف قیادت کرتا ہے۔ ریت کے ٹیلوں کی چوٹی سر کرنے کے لئے کمپلیکس آپریٹرز کی طرف سے منظم کردہ اونٹوں پر سیاح سواری کرتے ہیں۔

جھیل کم ازکم 2 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر موجود تھی مگر اب گذشتہ چند دہائیوں کے لئے یہ آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔ 1960 میں کی جانے والی پیمائش کے مطابق جھیل کی اوسط گہرائی زیادہ سے زیادہ 7.5 میٹر تھی ، 4 سے 5 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ ابتدائی 1990s میں، جھیل کے علاقے میں 0.9 میٹر (زیادہ سے زیادہ 1.3 میٹر) کی اوسط گہرائی کے ساتھ صرف 1.37 ایکڑ (5،500 M2) پر سکڑ گئی تھی۔ کریسنٹ جھیل میں گزشتہ تین دہائیوں میں 25 فٹ سے زیادہ کمی آئی ہے۔ جبکہ علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح 35 فٹ سے نیچے گر گئی ہے۔
2006 میں، مرکزی حکومت کی مدد سے مقامی حکومت نے جھیل کو بھرنا اور اس کی گہرائی کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے، اس کی گہرائی اور سائز اس کے بعد سے سالانہ بڑھ رہی ہے۔
مصاحف عثمانی، نقاط اور اعراب سے خالی تھے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے مدون (Recorded) قرآن میں بھی نقاط تھے نہ اعراب ....شہادت عثمانؓ کے عرصہ بعد تک بھی لوگ ان مصاحف سے صحیح تلاوت لیتے اور سنتے رہے۔ عرب اہل زبان تھے اور ماہر قراء سے تلاوت سیکھتے بھی ، اس لئے انہیں کوئی ایسی مشکل پیش نہ آئی کہ وہ اعرابی غلطیاں کرتے۔ مشکل عجمی مسلمانوں کی تھی جوصحیح عربی الفاظ سے ناآشنا (Unfamiliar)ہونے اور نقطے واعراب کی غیر موجودگی کی وجہ سے بڑی بڑی غلطیاں کرتے۔ان حالات میں یہ ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ قرآن میں اعراب لگائے جائیں۔ اعراب تو لگ گئے مگر کس نے لگائے؟علماء میں یہ اختلاف ہے کہ یہ کارنامہ کس نے سر انجام دیا۔ علماء تین حضرات کے نام لیتے ہیں جو ابو الاسود دؤلی، یحییٰ بن یعمر اور نصر بن عاصم اللیثی کے ہیں۔ زیادہ مشہور یہی ہے کہ ابو الاسود الدؤلی نے یہ کار خیر سرانجام دیا۔امام زرکشیؒ لکھتے ہیں:مصحف پر سب سے پہلے اعراب ابو الاسود الدؤلی نے لگائے۔ بعض علماء کے خیال میںانہوں نے یہ کام عبد الملک بن مروان کے حکم سے کیا۔ جس کا سبب یہ واقعہ بنا کہ ایک بار ابو الاسود الدؤلی نے قاری قرآن سے سنا کہ وہ یہ آیت {۔۔۔إنَّ اللہ بَرِیْٓءٌ مّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلُہٗ۔۔۔} )التوبۃ:۳) میں لفظ رسولُہ کو رسولِہ یعنی لام کو بجائے پیش کے زیر سے پڑھ رہا ہے ۔جس سے معنی ہی بدل گیا۔ابو الاسود کو بہت تکلیف ہوئی اور کہا ’’خدا کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے رسول ﷺ سے بیزار ہو۔‘‘ بصرہ کے والی زیاد بن ابیہ نے انہیں پہلے ہی فرمائش کی ہوئی تھی کہ آپ قرآن مجید کے اعراب لگائیں۔ چنانچہ وہ اس کام میں لگ گئے اور کاتب سے کہا: جب تم مجھے دیکھو کہ میں اپنے ہونٹ کسی حرف کے لئے اوپر کی جانب کھولتا ہوں تو اس حرف کے اوپر ایک نقطہ لگا دو اور اگر میںنے دونوں ہونٹوں کو باہم ملا دیا ہے تو پھر حرف کے آگے نقطہ لگادو۔ اگر میں نے نیچے کی طرف اسے موڑا ہے تو اس کے نیچے نقطہ لگا دو۔ اس طرح وہ اس کام کو مکمل کرنے کے بعد زیاد کے پاس گئے اورکہا کہ’’میں نے حکم کی تعمیل کر دی۔‘‘ (کتاب النقط: ۱۲۴)بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ ابو الاسود نے خلیفہ عبد الملک کے حکم سے قرآن پر حرکات لگائیں۔ ابتداء میں وہ حرکات جو ابولاسود الدؤلی نے وضع کیں وہ اس طرح کی نہ تھیں جیسی آج کل معروف ہیں ۔ بلکہ زبر کے لئے حرف کے اوپر، زیر کے لئے نیچے اورپیش کے لئے حرف کے سامنے ایک نقطہ مقرر کیا گیا۔ جبکہ سکون کی علامت دو نقطے تھی۔(مناہل العرفان از زرقانی ۱؍۴۰۱)
۱: پاکستان پہلا اور واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت بنا.
۲:پاکستان کے قومی ترانے کی دُھن دنیا کی تین بڑی دھنوں کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے
۳:پاکستان میں دنیا کا چوتھا بڑا براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم موجود ہے
۴: پاکستان کے پاس دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت موجود ہے
۵: ایئر کموڈور محمّد محمود عالم نے ایک منٹ کے اندر اندر انڈیا کے 5 جنگی جہاز مار گراۓ تھے جن میں پہلے چار جہاز صرف 30 سیکنڈز میں مار گراۓ تھے . جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے
۶: پاکستان کو اگلے گیارہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ، گیارہ ممالک جو بریکس کی فہرست میں شامل ہیں جو کہ اکیسویں صدی کی بڑی معیشت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
۷: دنیا کی دوسری اور نویں بلند پہاڑی چوٹیاں کے ٹو اور ننگا پربت پاکستان میں ہیں .
۸:پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑی آبادی والا ملک ہے
۹: پاکستان مسلمان اکثریت کے اعتبار سے دوسرا بڑا ملک ہے
۱۰: تربیلا ڈیم رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے وسیع اور دوسرا بڑا ڈیم ہے
۱۱: ایدھی فاونڈیشن دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس نیٹ ورک چلاتی ہے
۱۲: براعظم ایشیاء کا سب سے بڑا ریلوے سٹیشن پاکستان میں واقع ہے
۱۳:سائنسدانوں اور انجینیرزکے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا خطہ جی ہاں آپکا پاکستان... آپکی مٹی ہے...
۱۴: دنیا کی بہترین فضائی فورسز میں پاکستانی ماہر پائلٹس کا شمار ہوتا ہے
۱۵: دنیا کی سب سے بڑی سمندری بندرگاہ گوادر ہے
۱۶: پوری دنیا کے تقریباً 50 فیصد فوٹبالز پاکستان میں بنتے ہیں
۱۷: پاکستان اور چین کو جوڑنے والی شاہراہ قراقرم دنیا کی سب سے بڑی ہموار بین الاقوامی سڑک ہے
۱۸: دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان کھیوڑہ پاکستان میں ہے
۱۹: دنیا کا بلند ترین پولو گراونڈ شندور پاکستان میں واقع ہے ، جس کی بلندی 3700 میٹرہے
۲۰: پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے ۔
۲۱: دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑی سلسلے پاکستان میں ہیں
۲۲: سری لنکن تامل ٹائیگرز دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم تهی.. تمام دنیا کے فورسسز نے ملکر انکے ساته نو سال جنگ لڑی تهی. تامل ٹایگرز کے ساته طیارے اور ٹینک کی بہتات تهی . نو سال میں تمام دنیا کے افواج انکو شکست نہ دی سکی... پاک آرمی نے صرف چار سال کے اندر اندر تامل ٹائیگرز کا نام و نشان ایسے مٹایا کہ ابهی تامل ٹایگرز مکمل ختم ہے...
۲۳: پاکستان میزائل ٹیکنالوجی دنیا کی سب سے بہترین میزائل ٹیکنالوجی میں سے ایک ہے ، جب سے یہ ملک ایٹمی طاقت بنا ہے تب سے بہت سے میزائل بہت ہی کم وقت میں تیار کیے ہیں النصر ایٹمی میزائل جو ٹیکنکل ہتھیار ہے یعنی سسٹم جام ہوجانے کی صورت میں ایک فوجی بھی فائر کرسکتا ہے اور فوجی گاڑی پر مطلوبہ جگہ سے فائر کرکے حملہ آوور ساری فوج کو بھاپ میں اڑا سکتا ہے کئی لحاظ سے بھارتی تو ایک طرف امریکی میزائل ٹیکنالوجی سے بھی آگے ہے-
۲۴: پاکستان دنیا کے سب سے بہترین جنگی جیٹ طیاروں کا صنعت کار ہے
۲۵: پاکستان دنیا کا بڑا سرجیکل آلات برآمد کرنے والا ملک ہے
۲۶: دنیا کی سب سے زیادہ مشہور سیاحت گائیڈ بک، تنہا سیارے پاکستان دنیا کی سیاحتی صنعت کے اگلے بڑی بات ہونے کی وجہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے
۲۷: یورپین کاروباری انتظامیہ ادارے کی درجہ بندی کے مطابق 125 ممالک میں سے پاکستان چوتھا سب سے زیادہ ذہین لوگوں والا ملک ہے
۲۷:تمام ممالک کے پرچموں میں پاکستان کا جھنڈا خوبصورتی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پہ ہے-
۲۹: پاکستان دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں سے ایک ہے جو کہ چاروں موسم، ہر قسم کی معدنیات اور زراعت اور وسیع سڑکوں کا جال رکھتا ہے-
۳۰: پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ خوش رہنے والی، جفاکش اور دریا دل قوم ہےجفاکش-
پاکستان زندہ باد
مدینہ منورہ سے کوئی 300 کلومیٹر دور ایک خاموش علاقہ ہے ۔جس کو میدان صالح کہتے ہیں۔ اس علاقے میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ اس قوم کو قوم ثمود کہتے ہیں ۔ یہ قوم حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کے ہم عصر تھے۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کو قوم عاد کہتے ہیں ۔ جن کی باقیات آج کل بحرین کے صحرا میں موجود ہیں ۔
قوم ثمود نے اللہ عزوجل سے کفر کیا۔یہ بہت بڑے لمبے چوڑے اور طاقتور تھے، انہوں نے پہاڑوں کے اندر اپنے گھر بنا رکھے تھے۔ جو کسی بھی موسمی شدت کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ وہ حضرت صالح علیہ السلام کی تبلیغ کے مقابلے میں کہتے اے صالح علیہ السلام ہمارے عظیم الشان گھروں کو دیکھ کیا ہم بہت زیادہ طاقت والے نہیں ؟ اگر ہمارے مقابلے پر کوئی اور قوم ہے ان کو لاؤ ہمارے سامنے ۔لیکن جب انہوں نے اللہ کی نشانی اونٹنی کو مار ڈالا ۔ جس کا تذکرہ "حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی" میں گزر چکا ہے۔

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ 3 دن اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جھوٹا نہیں ہو گا۔ تو اللہ نے ان حضرت صالح علیہ السلام کو اور کچھ لوگوں سے اپنی مہربانی سے بچا لیا ۔اس قوم کو چنگاڑ نے آ پکڑا ۔۔۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ۔ فرشتے کی وہ چیخ یا چنگاڑ اتنی شدید تھی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور اپنی گھروں میں پڑے پڑے ہی ہلاک ہو گئے ۔ وہ جتنے بھی طاقتور تھے لیکن اللہ سے زیادہ زور آور نہیں ہو سکتے ۔ وہ برتر اور اعلی ہے ۔
روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ اس علاقے سے گزرے ۔ تو نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے چہرہ انوار پر اضطراب تھا۔ اور ایسا لگتا تھا وہ جلدی میں ہیں۔ وہاں کے لوگوں نے ایک کنوئیں کا پانی پیش کیا، لیکن نبی امت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو منع فرما دیا اور جلد وہاں سے نکلنے کا حکم دیا، صحابہ نے اضطراب کی وجہ پوچھی تونبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا یہاں اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے۔ یہ علاقہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کا ہے جس پر اللہ نے سخت عذاب نازل کیا ۔وہاں پر پانی نہ پینے اور نہ ٹھہرنے کی حکمتیں ایسے راز ہیں جس کی خبر ہمیں نہیں ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers