سدا سہاگن دلّی کا کریم ہوٹل بھی کتنا خوش نصیب ہے کہ پاکستان سے جانے والا ہر شخص وہاں کی شہرت سن کر کھانا کھانا چاہتا ہے۔
ہمارے محترم، معروف اور مقبول ادیب، شاعر اور کالم نگار عطاء الحق قاسمی جب صوفیوں کی سرزمین اور ہندوستان کی راجدھانی پہنچے تو انھوں نے بھی کریم ہوٹل کو شرفِ باریابی بخشا! لیکن وہاں انھیں وہ ذائقہ نہیں ملا جس کی شہرت سن کر عطا صاحب کے قدم اپنے میزبانوں اور چاہنے والوں کے ساتھ کریم ہوٹل کی جانب اٹھ گئے تھے۔
واپس آکر انھوں نے اپنے کالم میں اس بات کا ذکر کیا کہ خدا جانے کیوں کریم ہوٹل کی اتنی شہرت ہے جب کہ انھیں وہاں کا کھانا پسند نہیں آیا۔
پھر ہمارے محترم انتظار حسین نے اپنے کالم ’’ذائقے جو روپوش ہوگئے‘‘ میں بے چاری دلّی اور اس کے کھانے کے سدا بہار ذائقوں کا دفاع کیا ہے کہ میرٹھ کون سا دلّی سے ہزاروں میل دور ہے۔
انھوں نے سچ ہی تو کہا ہے کہ ’’جامع مسجد کی سیڑھیوں پر یا دلّی کے کسی کوچے میں قورمے کی دیگ کھلتی تھی اور بریانی کی دیگ سے ڈھکن اٹھایا جاتا تھا تو اس کی مہک میرٹھ اور ہاپوڑ تک پہنچتی تھی۔‘‘ مگر اب وہ دلّی کہاں اور اس کے ذائقے کہاں؟ ہر چیز اور ہر ذائقہ کمرشل ازم کا شکار ہوگیا۔
لیکن جہاں تک عطاء الحق قاسمی کی رائے ہے تو میں پوری طرح اس سے متفق ہوں۔ صرف کریم ہوٹل کے کھانوں کے حوالے سے۔ اور میں نے اس کا ذکر بھی اپنے پہلے سفرنامے میں کیا تھا۔
2005 میں جب ہم پہلی بار بھارت جارہے تھے تو کئی لوگوں نے تاکید کی کہ دلّی جائو تو کھانا کریم ہوٹل میں کھانا۔ اتفاق سے پہلے ہی دن ہمارے میزبان وہاں لے گئے۔
قورمہ اور سیخ کباب واقعی بہت اچھے تھے۔ لیکن قورمے میں سے وہ مخصوص مہک نہیں آرہی تھی جو میری والدہ اور بڑی بہن کے ہاتھ کے قورمے میں سے آتی تھی۔ وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ ہمارے میاں حسب عادت بولے کہ ’’تمہارا معیار چائے اور کھانوں کے معاملے میں بڑا سخت ہے۔
مجھے تو سب کچھ بہت اچھا لگا۔‘‘ اب ہم ان سے کیا کہتے کہ ذائقے بھی تہذیب کی طرح نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ گویا یہ بھی وراثتی سلسلہ ہے۔
اگلے دن ہم نے سوچا کہ پہلے دلّی کی اس نہاری کی بازیافت کی جائے جس کا ذکر شاہد احمد دہلوی کی پربہار تحریر میں ملتا ہے یا پھر میری امی کے ہاتھوں میں تھا۔ میاں صاحب نے سیدھا لے جا کر کریم ہوٹل بٹھادیا اور نہاری لانے کا حکم دیا۔
اب جو نہاری سامنے آئی تو یقین جانیے ایسا لگا جیسے رات کے بچے ہوئے سالن کا ملغوبہ جس میں روغن نام کو نہیں۔ ہم نے بیرے سے پوچھا۔
یہ نہاری ہے؟ بولا، ’’جی! یہ ہماری خاص ڈش ہے جسے پورے پاکستان اور ہندوستان ہی نہیں ہر جگہ سے لوگ کھانے آتے ہیں۔‘‘ ہم نے جل کر کہا اگر یہ نہاری ہے تو وہ لوگ جانتے ہی نہیں کہ نہاری کسے کہتے ہیں۔
ہم نے تو بالکل کھانے سے انکار کردیا البتہ قاضی صاحب نے اس بیرے کا دل رکھنے کو دو لقمے لیے اور پلیٹ کھسکادی۔ ہم نے پیسے اداکیے اور باہر نکل آئے۔ توبہ توبہ اس ملغوبے کو کریم ہوٹل والے نہاری کہہ رہے ہیں۔
اس بات کا ذکر ہم نے اپنے ہوٹل میں کیا تو اس کے مالک اکرم نے بتایا کہ اگر واقعی دلّی کی اصلی نہاری کھانی ہے تو مٹیا محل میں صبح صبح ایک شخص ایک دکان کے آگے دیگ لے کر بیٹھتا ہے، وہ کھائیے۔ لیکن وہ نہاری نصیب نہ ہوئی کہ رش بہت ہوتا ہے اور بہت جلد ختم بھی ہوجاتی ہے۔ کریم ہوٹل کے مقابلے میں اس سے متصل جواہر ریسٹورنٹ کے کھانے زیادہ بہتر تھے۔ ہم نے دوبارہ بھول کر بھی کریم ہوٹل میں قدم نہیں رکھا۔ وہ تو سیّد محمد جعفری نے حقیقت کھول دی یہ کہہ کر ع:
جسے سمجھے تھے اننّاس وہ عورت نکلی
کریم اور جواہر ہوٹل کے سیخ کبابوں سے زیادہ لذیذ کباب ہم نے جامع مسجد کی سیڑھیوں کے سامنے سے کھائے۔ بیس بائیس سالہ لڑکا جو یہ کباب بنارہا تھا۔ وہ اپنے گاہکوں کو بتادیتا تھا کہ کس دن وہ بکرے کے کباب بناتا ہے۔
2009 میں جب دوبارہ دلّی گئے تو کریم ہوٹل کا رش پہلے سے بہت بڑھ گیا تھا اور آس پاس کی جگہ بھی خرید لی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا کہ کب جگہ خالی ہو اور وہ بیٹھیں۔ قاضی صاحب کو کسی نے احمد آباد میں بتایا تھا کہ کریم کی جیسی چکن روسٹ اور چکن فرائی کوئی دوسرا نہیں بناتا۔
تب ہم نے اپنے لیے سیخ کباب منگائے کیونکہ چکن ہمیں بالکل پسند نہیں بس مارے باندھے چکن بروسٹ کھالیتے ہیں۔ قاضی صاحب کو چکن پسند آئی، لیکن ہم نے 2009 میں جب جواہر ریسٹورنٹ کا رخ کیا تو وہاں کی بھی دنیا بدل چکی تھی۔ 2005 میں جو یخنی والی مغلئی بریانی کسی حد تک ہم کو اچھی لگی تھی، وہ اب سادہ سے بگھارے چاول لگ رہے تھے۔
سچ پوچھیے تو یہ بات ہماری فہم سے بھی بالاتر تھی کہ لوگ اس ہوٹل کے کھانوں پر اتنا مرتے کیوں ہیں۔ شاید یہ کریم ہوٹل والے کی لابنگ اور پبلسٹی کا کمال ہے اور کچھ نہیں۔ ہم نے جب اس بات کا تذکرہ غالب اکیڈمی کے عقیل صاحب اور وہاں موجود چند دیگر مقامی ادبی شخصیات سے کیا تو ان میں سے ایک بولے، ’’بی بی سارے نہاری قورمے بریانی اور شب دیگ پکانے والے تو پاکستان چلے گئے۔
ب آپ کو وہ اصلی دلّی کا ذائقہ کہاں ملے گا۔‘‘ انھوں نے سچ ہی کہا تھا، دلّی صرف ایک تہذیب ہی نہیں ایک معیار کی سند بھی ہے۔ جب ہی تو ہر ایرا غیرا ہوٹل کے نام میں دہلی کا لاحقہ ٹانک دیتا ہے۔ کراچی میں دو ہوٹل ایسے تھے جو اصلی دلّی کے خاندانی باورچیوں کے تھے۔ ایک دہلی مسلم ہوٹل اور دوسرا دہلی کالی ہوٹل۔
لیکن اصل مالکوں کے مرنے کے بعد اولاد سے یہ کام نبھ نہ سکا ۔ ہم انتظار صاحب کی بات سے بھی سوفیصد متفق ہیں۔ ان کا فرمانا بجا ہے کہ ’’جب کسی تہذیب کا بستر لپٹتا ہے تو اس کے رنگ، اس کی مہک اور اس کے ذائقے اپنی ناقدری دیکھ کر جہاں تہاں مہذب گھروں میں جاچھپتے ہیں، انھیں بازاروں میں مت ڈھونڈیے۔‘‘
ہم دلّی والے ہیں اور دلّی والے قورمے میں زعفران ضرور ڈالتے ہیں۔ یہی زعفران مغلئی بریانی کا لازمی جزو ہے کہ جب ڈھکنا کھلتا ہے تو محلے بھر میں مہک پھیل جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اب نہ وہ اصلی گھی ہے، نہ بکرے اور گائے کا وہ گوشت جس کی بوٹیوں کو شاہد احمد دہلوی اور اشرف صبوحی نے ’’برفی کے ٹکڑے‘‘ لکھا ہے۔
سل بٹہ اب ناپید ہے۔ تانبے کی دیگچیاں آثارِ قدیمہ ہوگئیں۔ دلّی اور لکھنؤ کے باورچیوں سے (خاندانی) ان کے کھانوں کی لذت کا راز پوچھیں تو سب سے پہلے وہ تانبے اور پیتل کے قلعی دار برتن کی بات کریں گے۔ میری والدہ ہمیشہ کھانا تانبے کے قلعی دار دیگچیوں میں پکاتی تھیں۔ اب تو قلعی گر ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ اسی لیے اب دلّی والوں کے گھروں میں بھی تانبے کے برتن نہ رہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دلّی کی تہذیب کو آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں بلکہ اس کی گود میں پرورش پائی اور اسے کمرشل ازم کا شکار ہوتے بھی دیکھا۔ لیکن ہماری زبانیں چونکہ ان ذائقوں سے آشنا ہیں، اس لیے ہمیں بڑے سے بڑے ہوٹل کے کھانے بدمزا اور بے ذائقہ لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں کی سل پہ پسی ہوئی املی اور پودینے کی چٹنی بھی ایسی ہوتی ہے کہ سالن کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
میں نے اب بھی سل بٹے کو سنبھال کر رکھا ہے کہ کوفتے، شامی کباب اور چٹنی کا ذائقہ سل پر پیسنے ہی سے آتا ہے۔ دلّی والوں کے بریانی، قورمے اور کبابوں کے علاوہ سادہ کھانے جیسے کڑھی، دال گوشت، آلو اور دال بھرے پراٹھے، بیسن کی روٹی، لہسن اور لال مرچ کی چٹنی، دہی بڑے، ماش کی دال، پودینے ادراک اور پیاز کے بگھار کے ساتھ، نورتن ہانڈی، بینگن کا بھرتا اور نہ جانے کیا کیا۔
یہ سب آپ کو ملے گا ان دلّی والوں کے گھروں میں جہاں کی بیٹیوں نے سگھڑ مائوں اور دادیوں کی گود میں پرورش پائی، جو 24 کیرٹ کا سونا پہننے کے عادی ہوں، انھیں نقلی زیورات نہیں بھاتے، خواہ دیکھنے میں کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں۔
اسی لیے مجھے بھی قاسمی صاحب کی طرح کریم ہوٹل کے کھانے بالکل پسند نہیں آئے اور اسی پر کیا منحصر مجھے تو کبھی کسی بھی فائیو اسٹار ہوٹل کے کھانے پسند نہیں آتے، البتہ میٹھے میں انھیں کچھ نمبر دیے جاسکتے ہیں۔
محبت کی ادھوری داستان ، شیخ رشید کی لال حویلی سے متعلق وہ باتیں جوآپ کومعلوم نہیں
محبت کی ادھوری داستان سہگل حویلی“سیاسی عروج وزوال کے بعد آج کی ” لال حویلی “بن گئی،راولپنڈی کی لال حویلی سے 100 سال پرانی محبت کی پراسرار ،لازوال اور ادھوری کہانی جڑی ہے، راج سہگل اور بدھاں بائی کی ادھوری محبت نے اسے پہلے ”سہگل حویلی “پھر ”جنوں والی حویلی “پھر ”روحوں والی حویلی “ اور بالآخر ”لال حویلی “ بنا دیاہے ۔سو برس بیت چکے لیکن محبت کی ادھوری داستان ابھی بھی زندہ ہے، بدھاں بائی اور راج سہگل کی انمول پیار کی لازوال کہانی ایک صدی پرانا قصہ ہے، جہلم کے ہندو امیر زادے راج سہگل کاایک محفل میں بدھاں بائی پر دل آگیا۔پھر وقت کے بے رحم دھار اسے بدھاں بائی کے گھنگروو¿ں کی کھن کھن کی محتاج کرتی گئی اور راج سہگل کی دل کی دھڑکنیںاس آواز میں ڈھلتی چلی گئیں۔
راج سہگل نے بدھاں بائی کو دل میں بسایا اورپھر اسے گھر میں بسانے کی آرزو بھی کی اور راج نے بدھاں کیلئے اپنا پیار امر کرنے کیلئے مغل بادشاہوں کی نقل کرتے ہوئے راولپنڈی میں شاندار سہگل حویلی بنوائی ۔برصغیر کی تقسیم کیساتھ محبت بھی تقسیم ہو گئی، راج سہگل کو ہندوستان جانا پڑا لیکن بدھاں بائی اسی حویلی کی ہوکر رہ گئیں۔ پوری محبت کی اس آدھی کہانی میں پر اسرار موڑ اس وقت آیا جب بدھاں بائی اپنے بھائی کی موت کے بعد اچانک حویلی چھوڑ کر کسی گمنام وادی میں کھو گئیں۔ بدھاں بائی کے بعد سہگل حویلی پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لئے اور اس حویلی کو روحوں کی حویلی کہا جانے لگا۔
شیخ رشید کی زبانی
جس طرح مغل بادشاہ اکبر نے مسلمان کئے بغیر ایک ہندو عورت سے شادی کی تھی اسی طرح قیام پاکستان سے پہلے جہلم کی امیر ترین ہندو فیملی کے سربراہ رائے صاحب کرپا رام کے بیٹے دھن راج سہگل مسلمان عورت ’’بدھاں‘‘ کے عشق میں مبتلا ہوگئے۔
دھن راج سہگل لنکنز اِن لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرکے آئے تھے اور راولپنڈی میں مقیم تھے۔ کہتے ہیں کہ وہ سیالکوٹ میں ایک شادی میں شرکت کے لیے گئے۔ اس شادی میں روایتی مجرے کا بھی اہتمام تھا۔ اس مجرے میں ایک نوخیز لڑکی ’’بدھاں‘‘ ساری رات دھن راج کے سامنے ناچتی رہی اور اسی رات دھن راج اسے دل دے بیٹھے۔ دھن راج اس وقت خود شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ تھے پھر معلوم نہیں ’’بدھاں‘‘ بائی کو کس طرح سیالکوٹ سے راولپنڈی لانے میں کامیاب ہوگئے۔
جس طرح شاہ جہاں نے ممتاز محل بنوایا تھا اسی طرح دھن راج نے ’’بدھاں‘‘ کے لیے یہ عمارت تعمیر کروائی جو اس وقت سہگل حویلی کے نام سے منسوب تھی۔ ’’بدھاں‘‘ نے سہگل حویلی میں شفٹ ہونے کے بعد مجرا کرنا چھوڑ دیا اور مذہبی گھریلو عورت کی زندگی شروع کردی۔ وہ اسلامی رسومات اور مذہبی محافل کراتی تھیں جس پر دھن راج بے دریغ رقم خرچ کرتا تھا اور اس حویلی کے ساتھ دھن راج نے اپنے لیے مندر بھی بنوایا اور بدھاں کے لیے مسجد بھی۔ جسے صرافہ بازار سے بھی راستہ لگتا تھا۔
ان دنوں میں قومی اسمبلی کا ممبر بن چکا تھا لیکن لوگوں کے بیٹھنے اور ملاقات کی کوئی جگہ نہ تھی اپنے گھر بھابھڑا بازار میں بیٹھک بہت چھوٹی تھی اور لوگوں کے آنے جانے کا تانتا بندھا رہتا تھا جس سے گھر والوں کو بھی سخت تکلیف تھی۔ شاید وہ وقت آن پہنچا تھا جب میں کسی ایسی عمارت کو کرایہ پر لے سکوں جوکہ میرے نام سے زیادہ خود اپنی پہچان رکھتی ہو۔
میری بچپن سے خواہش تھی کہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے میرا اپنا گھر ہو۔ میں محمود احمد منٹو کے گھر میں مسلم لیگ کی گہما گہمی دیکھا کرتا تھا۔ سیاسی سرگرمیوں کے لیے اپنے گھر کی خواہش زور پکڑتی تھی۔ جب میں چھوٹا سا تھا تو لال حویلی کو دیکھا کرتا تھا جہاں بدھو بائی رہتی تھی جو کہنے کو تو طوائف تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد جس گمنامی اور عبادت میں اس نے زندگی گزاری وہ اپنی مثال آپ تھی۔ اس کے بھائی کو بعض لوگوں نے اس غلط فہمی میں قتل کردیا کہ اس کے پاس بے بہا دولت ہے۔
پہلے الیکشن میں ممتاز کالج کو دفتر بنانے کے بعد اپنی نئی جگہ پر دفتر بنانا بڑا ضروری تھا۔ کئی دفعہ لال حویلی خریدنے کے سودے طے ہوئے کئی دفعہ یہ بکی۔ ہر آدمی کا یہ خیال تھا کہ یہ منحوس بلڈنگ ہے۔ یہاں جنات کا سایہ ہے اور اگر بدھو بائی عدالت سے صرف یہ کہہ دیتی کہ میں اپنا مذہب تبدیل کرچکی ہوں یا دھن راج مذہب تبدیل کرچکا تھا تو اس شہر کے اربوں روپے کی جائیداد کی مالک ہوتی لیکن اس نے عدالت میں سچ بول کر جائیداد کے بھوکے شریف زادوں کے منہ پر سچائی کا تھپڑ رسید کیا۔
عدالت نے اسے دو تین دفعہ موقعہ دیا کہ وہ سوچ سمجھ کر بیان دے لیکن وہ اپنے بیان سے منحرف نہ ہوئی اور سچ سچ سارے واقعات بیان کردیئے اور اس طرح یہ ساری جائیداد سوائے ان دو کمروں کے جن میں وہ خود رہتی تھی متروکہ ملکیت قرار دے دی گئی۔ اس حویلی کو کئی مرتبہ خریدنے کی کوشش کی لیکن ہر بار چند ہزار روپے کے لین دین کی کمی پر سودا رہ جاتا تھا۔ ایک دن حیدر علی حسب خواہش میرے بغیر پوچھے اس کا سودا کر آئے اور مجھے کہنے لگے کہ تین برسوں سے تین ہاتھوں میں بک چکی ہے اس کے آگے کھلی جگہ ہے اور بالکونی سے خطاب کرنے کا دلکش منظر بھی، اس لیے سودا کر آیا ہوں۔ پیسوں کا بندوبست کریں۔ مجھے بھی یہ جگہ بہت پسند تھی، زبان زد عام تھا کہ یہاں جنات کا سایہ ہے لیکن یہاں میرے قدم جماتے ہی برکت کا باعث بنے۔
لال اور کالا رنگ شروع ہی سے میری کمزوری ہے۔ میں نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا کہ اس کا نام لال حویلی رکھوں لگا اور لال رنگ کرائوں گا لیکن میری گلی میں حاجی صابن والے پرانے احراری تھے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھوں۔ کہنے لگے لال کوٹھی، میں نے کوٹھی کی جگہ حویلی لگا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بلڈنگ جو پاکستان بننے سے پہلے نامور بلڈنگوں میں شمار ہوتی تھی اسے دنیا بھر میں شہرت ملی۔ اس پر دنیا بھر کے نیٹ ورک پر فلم دکھائی گئی اورخاص طور پر کشمیر کی آزادی کی تحریک پر دنیا بھر میں اس پر قسم قسم کے آرٹیکل چھپے۔ لیکن ایک اور بات جو وقوع پذیر ہوئی کہ لال حویلی میرے نام کے ساتھ منسوب ہوگئی۔
(’’فرزند پاکستان‘‘ سے)
سرکاری افسر بنتے ہی ہیرو کی پوسٹنگ ایک دور دراز گائوں میں ہو جاتی ہے۔ ہیرو اپنی گاڑی میں گائوں روانہ ہوتا ہے۔۔سارا دن سفر کے بعد گائوں کے نزدیک پیاس ستاتی ہے تو پانی کی تلاش میں ایک پنگھٹ پر جا پہنچتا ہے۔۔وہاں موجود ہیروئن کو دیکھ کر وہ حئران رہ جاتا ہے کہ وہ تو اس کی گاڑی کے ریڈی ایٹر سے بھی زیادہ ہاٹ ہے۔۔ہیرو پانی پیتا ہے اور ڈرائیو کرتا ہوا ڈاک بنگلے جا پہنچتا ہے۔
رات کو ہیروئن کا ابا جو کہ ڈاک بنگلے کا چوکیدر ہے ہیروئن کو بتاتا ہے کہ محکمہ انہار کا ایک نیا نوجوان افسر آیا ہے۔۔اور اس کے لئے رات کا کھانا لے جانا بے حد ضروری ہے۔۔۔ھیروئن کھانا لے کر ڈاک بنگلے پہنچتی ہے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ارے یہ تو وہی بابو ہے جو پنگھٹ پر آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ہیرو مکئ کی روٹی اور ساگ کھاتے ہوئے ہیروئن سے اس کے عزیزواقارب اور گھر والوں کے بارے میں بات کرتا ہے تو ہیروئن بتاتی ہے کہ ایک بڈھے بابا کے علاوہ دنیا میں اس کا کوئ اور نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہیروئن روز اس کے لئے کھانا لانے لگتی ہے لیکن ہیرو مرغن غزا کا عادی ہے۔۔۔اور یہاں چھ سات دن تک مسلسل دونوں وقت مکئ کی روٹی اور سرسوں کا ساگ کھا کھا کر اس کے اعصاب اس قدر کمزور ہو جاتے ہیں کہ آخر وہ عشق پر اتر آتا ہے۔۔۔۔۔۔پھر ایک بھیگی رات میں جبکہ چودھویں کا چاند قریبی کھجور کی شاخوں میں اٹکا ہوا ہے،،،،، ہیروئن ایک سرد آہ بھر کر پوچھتی ہے۔۔۔۔۔۔
'' سہر جا کے ہم کا بھول تو نہیں جائو گے سہری بابو؟ْْْْ''
بابو جس نے ایم اے اردو کیا ہوتا ہےجواب میں کہتا ہے۔۔،'
'' عشق میں اگر شعور و ادراک، فہم و احساس کا جز ولانیفک نہ ہوں تو ما بعدالطبیعاتی مظاہر کی نمود سے فکرو تخیل میں تشکیک کی زیریں لہر تیقن کو مجروح کر دیتی ہے۔''
ہماری اور آپ کی طرح ہیروئن بھی کچھ نہیں سمجھ پاتی اور اپنا سوال کوئ چھ مرتبہ دہراتی ہےتو شہری بابو جھلا کر سلیس اردو میں جواب دیتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔'' نہیں''۔۔۔۔
اب اس کے بعد کی کہانی مصنف و ہدایت کار پر منحصر ہے ۔۔۔۔۔ فلم اگر ٹریجک ہو تو عموما'' یہ ہوتا ہے کہ اس گائوں یعنی چک نمبر ۳۰۲ سے ہیرو کا تبادلہ تلہ گنگ ہو جاتا ہے ،وہ پہلے اپنے شہر آتا ہے جہاں اس کے ڈیڈی اسے بتاتے ہیں کہ وہ اس کی شادی ایک ایسی ماہ جبین سے کر رہے ہیں جس کے والد کسٹم میں ایک اعلیٰ افسر ہی اور وہ جہیز میں ایک ہزار گز پر بنگلہ، نئی جھلملاتی کار اور ہنی مون کے لئے سوئٹزر لینڈ کا ٹکٹ دیں گے۔۔۔۔یہ سن کر ہیرو پگھل جاتا ہے۔۔۔ ادھر گائوں میں ڈاک بنگلے کا چوکیدار اپنی بیٹی کو بتاتا ہے کہ اس کی شادی پھجے کمہار کے بیٹے سے طے ہو گئے ہے جو فی الحال بیروزگار ہے لیکن سواری کے لئے اپنا ذاتی گدھا موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر اچھی ہیروئن کی طرح ہماری یہ گائوں کی گوری بھی خاندان کی عزت اور رسم و رواج پر کاربند پے اس لئے رونے دھونے کے سوا اور کچھ نہیں کہتی۔۔۔۔ادھر شہر میں بابو شادی کے فورا'' بعد ہنی مون کے لئے روانہ ہو جاتا ہے اور ہیروئن رخصت ہو کر پھجے کمہار کےبیٹے کے گھر سدھار جاتی ہے۔۔۔اور سسر کے برتن بنانے کے لئے پائوں سے کچی مٹی گوندھنے کے بعد ایک دلدوز گانا گانے کے لئے کھڑکی کے پاس آجاتی ہے جہاں چاند ابھی تک کھجور کی شاخوں میں اٹکا ہوا ہے۔۔
5 مارچ .... 1953ء .... لاہور
"سر کراچی سے ڈیفنس سیکرٹری کا فون .... !!! "
" ہاں سرجی .... خیریت ؟؟ " آئ جی نے جماہی لیتے ہوئے کریڈل اٹھایا-
" آئ جی صاحب ... کچھ ہم سے بھی رابطہ رکھا کیجئے ... پرائم منسٹر کو بریف دینی ہوتی ہے" اسکندر مرزا نے کہا-
" اوہ سر جی .... یہاں دن رات میٹنگز چلتی ہیں .... اوپر سے شہر کے حالات .... !! "
" ڈی ایس پی فردوس شاہ کیسے قتل ہوا ؟؟"
" انہی لوگوں نے مارا جو پچھلے ایک ہفتے سے شہر پر قابض ہیں ...." آئ جی نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا -
" اوہ مائ گوش !!!.... یعنی فوج اور پولیس دونوں بُل شٹ ہو گئے ؟؟"
" کیا کریں سر ؟ ...پولیس کے پاس اچھّے ہتھیار نہیں .... اور جنرل صاحب آگے آنے کو تیار نہیں ... "
"کیوں ؟؟ ... کیا کہتا ہے جنرل اعظم ؟؟"
" اُن کے بھی نخرے ہیں یار .... جب تک شہر میں آگ نہیں لگے گی... مظاہرین گاڑیاں نہیں جلائیں گے ... توڑپھوڑ نہ ہوگی ... فوج ٹیک اوور نہیں کرے گی ... وٹ اے جنٹل مین یار !!! "
" تو کر دو اس کی خواہش پوری !! "
" کیا مطلب ؟ "
" اوہ مائ جینٹل مین !!!! .... تم نے نِیرو کا نام سنا ہے ؟؟... روم کا ایک مشہور بادشاہ تھا ... چل چھوڑ .... ایسا کر ... ایک فون نمبر دیتا ہوں ... یہاں مرزا آتش بیٹھے ہونگے ... انہیں بتا دو کہ شہر میں تھوڑی بہت آگ لگا دیں .... چل رہنے دے ... تو تھکا ہو گا یار .... میں خود ہی کہ دیتا ہوں .... "
آئ جی نے ایک کھوکھلا قہقہہ لگا کر کہا:
" لیکن یہ آگ لگائے گا کون ؟ "
" نامعلوم افراد ... " اسکندر مرزا نے کہا اور فون بند کر دیا-
صبح 8 بجے جب آئ صاحب میٹنگ کےلئے گورنر ہاؤس کی طرف نکلے تو شہر بھر میں نامعلوم افراد کا راج تھا-
نسبت روڈ پر انہوں نےکئ دکانوں کو لٹتے دیکھا- ایک مرزائ بزّاز کی لاش سڑک پر پڑی تھی جسے سفید لٹھے سے ڈھک کر چاروں کونوں پر اینٹیں رکھ دیں گئ تھیں- بلوائ دکان سے کپڑوں کے تھان کے تھان نکال رہے تھے- پولیس دور کھڑی تماشا دیکھنے میں مصروف تھی-
"ادھر آؤ ..." آئ جی نے ایک بنگالی سپاہی کو آواز دی جو اپنی بندوق کولھوں پہ ٹکائے پان چبا رہا تھا-
سپاہی بھاگا بھاگا آیا اور کڑاکے دار سلیوٹ کیا:
" نن ... نیچے کر ہاتھ ... ڈھکّن !!! " آئ جی صاحب نے ڈانٹا-
" پھِکر کرنے کا ناہیں ہے ساب ... ایدر سب اپنا ہی لوغ ہے" وہ پان چباتے ہوئے بولا-
" گورنر ہاؤس کا رستہ سیف ہے ؟" آئ جی نے پوچھا-
" ایک دم بڑھیا ساب ... بس کوتوالی کی طرف کُس گربر ہے .... باقی سب سیک ہے ..."
" ٹھیک ہے .... دھیان سے کرو ڈیوٹی !! " آئ جی نے شیشہ چڑھاتے ہوئے کہا-
آئ جی صاحب گورنر ہاؤس پہنچے تو اجلاس شروع ہو چکا تھا- گورنر جنرل غلام محمد کی تقریر جاری تھی- ھوم سیکرٹری ، جنرل اعظم ، ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اور ایس ایس پیز ہمہ تن گوش تھے-
" یہ ٹینش کوئ پہلی بار نہیں دیکھی میں نے ... " گورنر جنرل نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا- " یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بمبئ میں تھا ... شہر میں ھندو مسلم فسادات پھوٹے .... اور پورا بمبئ جلنے لگا"
" کیا چل رہا ہے ؟؟ " آئ جی نے ہوم سیکرٹری کے پاس بیٹھتے ہوئے سرگوشی کی-
" شکار کے قِصّے ... !!! " ہوم سیکرٹری نے جواباً کہنی ماری-
" فسادات کو صرف ایک ہی چیز ٹھنڈا کرتی ہے .... گولی ..... فسادات کی انیشیل اسٹیج پر ہی اگر کثیر تعداد میں بلوائ مار دیے جائیں تو بلوہ خود بخود دم توڑ جاتا ہے .... کیوں آئ جی صاب ؟"
" سس .... سر .... اندرون شہر کا کنٹرول اگر فوج کے حوالے کر دیا جائے تو ....!!! " آئ جی نے کچھ کہنے کی کوشش کی-
" اس پر بات ہو چکی ہے ... یو آر لیٹ ..... پولیس کو گولی چلانے کا کھلا اختیار ہے ... اور گشتی دستوں کی مدد کےلئے فوج بھی موجود ہیں ... کوارڈینیٹ وِد جنرل اعظم !!! "
" سر فردوس شاہ مرڈر کے بعد پولیس کے حوصلے پست ہیں ... " آئ جی گڑگڑایا-
" حوصلہ رکھو ... جو جوان بہادری سے لڑے گا ... اسے من چاہی جگہ پر دو مربع زمین دی جائے گی ..."
آئ جی ایک ٹھنڈی سانس لیکر خاموش ہو گیا-
"چیف سیکرٹری کہاں ہیں ...؟؟ " گورنر نے پوچھا-
" سیکریٹیریٹ میں کلرکوں نے ھنگامہ مچا رکھا ہے سر .... انہیں شانت کرنے گئے ہیں" ہوم سیکرٹری نے بتایا-
"کلرکوں کو کیا ہوا ؟؟ "
" کل ہونے والے قتلِ عام کی وجہ سے سب برہم ہیں سر .... "
" اوہ گاڈ ... اس کا مطلب ہے ... یہ تحریک سرکاری مشینری میں بھی گھس چکی ...؟؟ "
" یس سر ... ریلوے ملازمین بھی ہڑتال پر ہیں ... اور محکمہء بجلی کے لائن مین بھی کام چھوڑے بیٹھے ہیں"
" ایسا کرو ..... سپہر کی میٹنگ میں کچھ معززینِ شہر کو بلواؤ .... پھر ایک بیان پر ان کے دستخط کرواؤ .... اور یہ بیان ریڈیو سے نشر کرواؤ ..... اس سے پبلک پر اچھا اثر پڑے گا ..... لکھو ابھی..."
" یس ... سر " ہوم سیکرٹری کاغذ قلم سونت کر سیدھا ہو گیا-
" لکھو .... ختم نبوّت کے نام پر ...... امن و امان ..... تباہ کرنے والے لوگ ملک و قوم کے دشمن ہیں ... ان کے مطالبات محض تعصب اور کوتاہ فہمی پر مشتمل ہیں ... جماعت احمدیہ پاکستان کی ایک پرامن ، غیر متعصب اور ایجوکیٹڈ کمیونٹی ہے ...."
"سر ایک منٹ ..." ہوم سیکرٹری لکھتے لکھتے رُک گیا-
"کیا ہوا ؟"
"سر اس مسودے پر کوئ معزز آدمی سائن نہیں کرے گا !!! "
"چلو پھاڑ دو !!! "
⊙-----------⊙
اس دن پولیس نے شرح صدر کے ساتھ گولی چلائ-
پولیس کی درندگی کا شکار صرف اور صرف ختمِ نبوّت کے پر امن رضاکار ہی بنے- جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کرنے والوں کو کسی نے پوچھا تک نہیں -
سب سے زیادہ ظلم گوالمنڈی میں ہوا-
عبدالکریم مرزائ اے ایس آئ اور خان بہادر سپریڈنٹ بارڈر پولیس یہاں تعیّنات تھے- خان بہادر وہی شخص تھا جس نے 1935ء میں مسجدِ شہید گنج تحریک میں بھی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے تھے- انگریز حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کے انعام میں خان بہادر کو بے شمار تمغوں سے نوازا تھا- آج پھر وہ دو مربع زمین کے لالچ میں ایمان بیچنے آیا تھا- یہ دونوں آفیسرز رضاکاروں کو ابھار ابھار کر گولیاں چلاتے رہے-
پولیس گاڑی پر لگے میگافون سے بار بار اعلان کیا جاتا:
" ہے کوئ ختمِ نبوّت کا پروانہ ؟؟... ہے کوئ شہادت کا تمنّائ ؟؟ "
اعلان سنتے ہی آٹھ دس دیوانے مستانے نعرہء تکبیر لگاتے ہوئے آگے بڑھتے اور بارڈر پولیس انہیں گولیوں سے بھون دیتی-
دن بھر نہ تو عاشقانِ مصطفی ﷺ ایک قدم پیچھے ہٹے اور نہ ہی پولیس کے دل میں لمحہ بھر کو انسانیت جاگی- صبح نو بجے سے لیکر دوپہر دو بجے تک یہ مقتل گاہ یونہی سجی رہی- لوگ جوق در جوق " لبیک یا رسول اللہ ﷺ " کا نعرہ لگاتے ہوئے ، ناموسِ رسالت پر قربان ہوتے رہے ... وقفے وقفے سے ایک فوجی گاڑی آتی اور اسلحہ دیکر چلی جاتی- ان شہداء کی تعداد کسی نے ایک ہزار لکھی تو کسی نے دس ہزار- رب سچّا ہی جانتا ہے کہ کتنے لوگ شہید ہوئے- کہا جاتا ہے کہ ان گمنام مجاھدین کی لاشیں ٹرکوں میں ڈال کر چھانگا مانگا جنگل میں پہنچائ گئیں- ان کے جسدِ خاکی ایک طویل کھائ میں پھینک کر ، پہلے تیل چھڑک کر آگ لگائ گئ ، پھر اس اجتماعی قبر کی مٹّی برابر کر دی گئ-
سرورِ کونین ﷺ سے ، جب سر کا سودا ہو چکا
ہم نہ پوچھیں گے کسی سے بھاؤ اب بازار کا
1987 ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺗﮭﺎ ﺟﺘﻨﺎﮨﺮﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ کا انتظام کرنا تھا۔جون ایلیا ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ "ﺟﺎﻧﯽ ﺭئیس ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯﭘﻮچھ ،ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺕ ﮨﯿﮟ" رئیسﺍﻣﺮﻭﮨﻮﯼ ﻓﮑﺮِﺳﺨﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ۔ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ"ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ۔۔ﻻﻟﻮ ﮐﮭﯿﺖ ﺳﭙﺮﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ "ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺤرِﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﺯﻥ۔۔۔۔ﺑﮍﯼ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯﭘﮩﻠﮯﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ۔ﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺌﮯ ﺑﺎﻭﺭﭼﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﻭﭘﺮ ﻟﭩﮭﮯ ﮐﯽ ﻭﺍﺳﮑﭧ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻟﻨﮕﯽ۔ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﺪﻥ ﺳﺮﺳﯿﺪ ﺧﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺁﻭﺍﺯ۔ﻭﮨﯿﮟ ﭘﭩﯽ ﭘﺮ ﭨﮏ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﻣﺪﻋﺎ ﮐﯽ۔ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﻗﻄﻌﮧ دیکھ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ " ﮔﺮﻡ ﻣﺴﺎﻟﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺁﺝ۔۔ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ۔۔
ﺧﯿﺮﻣﯿﺎﮞ۔۔۔ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼؤﮔﮯ ﺑﺎﺭﺍﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ۔ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﮐﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﮯ"ﮔﺎﺟﺮ ﮐﺎ ﺣﻠﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ "۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺧﻔﮕﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ" ﻣﯿﺎﮞ ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔۔ﻧﺌﯽ ﮔﺎﺟﺮ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻭﺍﻟﯽ۔۔ﮐﮭﻮئے ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺭﮐﮭﻮﮔﮯ ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎئے یہ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ"ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ۔ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻣﻮﺭ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺑﯿﭩﮭﺎ " ﻣﯿﮟ ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ"۔ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﯼ ﻟﮕﯽ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻟﮕﺘﯽ۔۔ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟائے ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮔﺎﺗﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﯿﮟ۔۔ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ۔ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﻧﮯ ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﯿﺎ۔ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﺭﺍﺕ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﺎﻝ ﺑﯿﻞ ﭘﺮﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺵ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﺎ ﺗﮭﺎﻝ لیے ﻣﻮﺟﻮد۔۔۔ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ سے ﻟﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ۔۔ﺑﻮﻟﮯ"ﻟﻮ ﻣﯿﺎﮞ۔ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮨﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ"ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺯﻭﮐﯽ ﻣﯿﮟ بیٹھ ﯾﮧ ﺟﺎ ﻭﮦ ﺟﺎ۔۔ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﻨﮑﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ"ﻣﯿﺎﮞ ﺑﻨﮍﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ "۔ﻣﯿﮟ ﺳﭩﭙﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ "ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ"۔ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﮯ ﺍﻭﺭﺑﻮﻟﮯ"ﻣﯿﺎﮞ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎئے ﮔﺎ۔۔ﺧﯿﺮﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯﮨﻢ"ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎتھ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻮﭨﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﯽ ﺩﻭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺩﯾﮕﯿﮟ ﺍﻟﮓ ﻻئے۔۔ﺧﻮﺩ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﻃﺮﮮ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﮕﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺼﺎ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺨﺸﺎ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﻟﮕﺎﺗﮯ "ﻣﯿﺎﮞ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ؟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﺗﻢ۔۔ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ۔ﮐﺴﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﮐچھ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ "ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﻏﺎﺋﺐ۔۔ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔۔ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻠﮯﮔﺌﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ؟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﻤﯿﺖ ﺟﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﻟیمہ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ۔۔ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﻓﺮﺻﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮈﺍﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﻠﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮔﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ۔خرابی ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﻟیے ﺑﻐﯿﺮﭼﻠﮯ ﺁئے"۔ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯﮨﻢ ﻧﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "ﻣﯿﮟ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﻮ،ﺍﺱ ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻃﺮﮦ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﻭﺿﻌﺪﺍﺭﯼ ﻓﺮﺍﺧﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻣﯿﮟ ﻣﺎؤﻧﭧ ﺍﯾﻮﺭﺳﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﯾﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﺳﺘﺎﺋﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺁﺝ ﮐﮯ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ ﻻکھ ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﺷﺎﯾﺪ۔ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻮں گے ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻓﻮﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
غالب کی بیگم دیانت دار اور خوف خدا رکھنے والی ایک مال دار خاتون تھیں۔شادی کے بعد انہوں نے آبائی وطن کو چھوڑا اور دارلخلافہ دہلی میں اٹھ آئے۔اخراجات بڑھ گئے۔مقروض ہوگئے۔اور قرضہ بڑھتا گیا۔ کوئی ذریعہ روزگار نہ تھا اس دوران وہ مسلسل دربار مغلیہ تک رسائی کی کوشش کرتے رہے۔اور١٨٥٠ء میں حکیم احسن خان کی سفارش پر تاریخ تیموری لکھنے پر مامور ہوئے اور معقول مشاہرہ لیتے رہے۔
غالب شراب اوروہ بھی ولایتی،جوئے کے عادی اور محنت و مشقت کی خو سے عاری انسان تھے۔لکھتے ہیں
'' فی الحقیقت سچی بات کو چھپانا اچھے لوگوں کا طریقہ نہیں میں نیم مسلمان، مذہبی پابندیوں سے آزاد ہوں اور بدنامی ورسوائی کے رنج سے بے نیاز ہمیشہ سے رات میں صرف ولائتی شراب پینے کی عادت تھی ولائتی شراب نہیں ملتی تھی تو نیند نہیں آتی تھی۔ آج کل جب کہ انگریزی شراب شہر میں بہت مہنگی ہے اورمیں بہت مفلس ہوں۔اگر خدا دوست،خدا شناس،فیاض ،دریا دل مہیش داس دیسی شراب قند جو رنگ میں ولائتی شراب کے برابر اور بو میںاس سے بڑھ کر ہے بھیج کر آتش دل کو سردنہ کرے تو میں زندہ نہیں رہتا۔ اسی عالم جگر تشنگی میں مرجاتا۔''
ہمیشہ نوابین،بہادر شاہ ظفر اور انگریزوں کے وظیفے پر گزارہ کیا۔اپنی عادات کی وجہ سے اکثر تہی دوست رہے اگرچہ ان کے ہم عصروقتاًفوقتاً ان کی خطیر رقم سے اعانت بھی کرتے رہے۔ غالب نے تمام عمر کوئی کام نہ کیا۔خوشامد ان کی فطرت کا ایک اہم عنصر تھا ۔جس کی تعمیر میں ان کی عادات و اطوار کے علاوہ حوادث زمانہ بھی شامل تھے۔ان حوادث زمانہ سے نبردآزما ہونے کے لیے سہل پسند شاعر نے قصیدہ گوئی کو اپنا وطیرہ بنایا۔
''اصحاب الاخدود''کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ کون لوگ تھے؟ اور ان کا اصل واقعہ کیا تھا۔؟
اس اختلاف کے باوجود ہم ایک تفسیر کے حوالے سے ان کا واقعہ مفصل اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں سے شئیر کرتے ہیں۔
اس بارے میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگلی امتوں میں ایک بادشاہ تھا جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور ایک جادوگر اُس کے دربار کا بہت ہی مقرب تھا۔ ایک دن جادوگر نے بادشاہ سے کہا کہ میں اب بوڑھا ہوچکا ہوں۔ لہٰذا تم ایک لڑکے کو میرے پاس بھیج دو تاکہ میں اُس کو اپنا جادو سکھا دوں۔ چنانچہ بادشاہ نے ایک ہوشیار لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیج دیا۔ لڑکا روزانہ جادوگر کے پاس آنے جانے لگا لیکن راستہ میں ایک ایماندار راہب رہتا تھا۔ لڑکا ایک دن اُس راہب کے پاس بیٹھا تو اس کی باتیں لڑکے کو بہت پسند آگئیں۔ چنانچہ لڑکا جادوگر کے پاس آنے جانے میں روزانہ راہب کے پاس بھی بیٹھنے لگا۔
ایک دن لڑکے نے دیکھا کہ ایک بڑا اور مہیب جانور کھڑا انسانوں کا راستہ روکے ہوئے ہے۔ لڑکے نے یہ منظر دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ آج یہ ظاہر ہوجائے گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب؟ چنانچہ لڑکے نے ایک پتھر اٹھا کر یہ دعا مانگی کہ یا اللہ عزوجل! اگر تیرے دربار میں یہ مذہب جادوگر سے زیادہ مقبول و محبوب ہو تو اس جانور کو اسی پتھر سے مقتول فرما دے۔ یہ دعا کر کے لڑکے نے جانور کو اس پتھر سے مار دیا تو یہ بہت بڑا جانور ایک چھوٹے سے پتھر سے قتل ہو کر مرگیا اور لوگوں کا راستہ کھل گیا۔
لڑکے نے راہب سے یہ پورا واقعہ بیان کیا تو راہب نے کہا کہ اے لڑکے! خدا عزوجل کے دربار میں تیرا مرتبہ بلند ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب تو عنقریب امتحان میں ڈالا جائے گا۔ اس لئے کسی کو میرا پَتا نہ بتانا اور امتحان کے وقت صبر کرنا۔ اس کے بعد یہ لڑکا اس قدر صاحب ِ کرامت ہو گیا کہ اس کی دعاؤں سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی شفا پانے لگے۔ رفتہ رفتہ بادشاہ کے دربار میں اس کا چرچا ہونے لگا تو بادشاہ کا ایک بہت ہی مقرب ہم نشین جو اندھا ہو گیا تھا، اس لڑکے کے پاس بہت سے ہدایا اور تحائف لے کر حاضر ہوا۔ اور اپنی بصار ت کے لئے دعا کا طالب ہوا۔ تو لڑکے نے کہا کہ اگر تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تو میں تیرے لئے دعا کروں گا۔ چنانچہ وہ ایمان لایا او رلڑکے نے اس کے لئے دعا کردی تو فوراً ہی وہ انکھیارا ہو گیا اور بادشاہ کے دربار میں گیا تو بادشاہ نے پوچھا کہ تمہاری آنکھوں میں بصارت کیسے آگئی؟ تو مقرب ہم نشین نے کہا کہ میرے رب نے مجھے بصارت عطا فرما دی ہے۔ بادشاہ نے غضب ناک ہو کر کہا کہ کیا میرے سوا بھی تمہارا کوئی رب ہے؟ تو اُس نے کہا کہ ہاں۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تیرا دونوں کا رب ہے۔ بادشاہ نے اس کو طرح طرح کی سزائیں دے کر پوچھا کہ کس نے تجھے یہ بتایا ہے؟ تو اس نے لڑکے کا نام بتا دیا۔ پھر بادشاہ نے لڑکے کو قید کر کے اُس کو اس قدر مارا پیٹا کہ اُس نے راہب کا نام بتا دیا۔ بادشاہ نے راہب کو گرفتار کر کے اُس سے کہا کہ تم اپنے عقیدہ کو چھوڑ دو مگر راہب نے صاف صاف کہہ دیا کہ میں اپنے اس عقیدہ پر آخری دم تک قائم رہوں گا۔ یہ سن کر بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے راہب کے سر پر آرا چلوا کر اس کے دو ٹکڑے کردیئے۔ اس کے بعد بادشاہ نے اپنے مقرب ہم نشین کے سر پر بھی آرا چلوا دیا۔ پھر لڑکے کو سپاہیوں کے سپرد کیا اور حکم دیا کہ اس کو پہاڑ کی چوٹی پر چڑھا کر اوپر سے نیچے لڑھکا دو۔ لڑکے نے پہاڑ پر چڑھ کر دعا مانگی تو ایک زلزلہ آیا اور بادشاہ کے سپاہی زلزلہ کے جھٹکوں سے ہلاک ہو گئے اور لڑکا سلامتی کے ساتھ پھر بادشاہ کے سامنے آکھڑا ہو گیا۔
پھربادشاہ نے غیظ و غضب میں بھر کر حکم دیا کہ اس لڑکے کو کشتی پر بٹھا کر سمندر میں لے جاؤ اور سمندر کی گہرائی میں لے جا کر اس کو سمندر میں پھینک دو۔ چنانچہ بادشاہ کے سپاہی اس کو کشتی میں بٹھا کر لے گئے۔ پھر جب لڑکے نے دعا مانگی تو کشتی غرق ہو گئی اور سب سپاہی ہلاک ہو گئے اور لڑکا صحت و سلامتی کے ساتھ بادشاہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور بادشاہ حیران رہ گیا۔ پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے اللہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مجھ کو شہید صرف ایک ہی صورت میں کیا جاسکتا ہےکہ تو مجھ کو سولی پر لٹکا کر اور یہ پڑھ کر مجھے تیر مار ''بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَامِ'' چنانچہ اسی ترکیب سے بادشاہ نے اس لڑکے کو تیر مار کر شہید کردیا۔ لڑکے کا اپنی شہادت کا طریقہ بتانے میں بھی ایک حکمت تھی کہ لوگ اس بات کو جان کر اللہ پر ایمان لے آئیں گے۔
اس کی شہادت کا منظر دیکھ کر ہزاروں کے مجمع نے بلند آواز سے یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ غصہ میں بوکھلا گیا اور اُس نے گڑھا کھدوا کر اُس میں آگ جلوائی۔ جب آگ کے شعلے خوب بلند ہونے لگے تو اس نے ایمانداروں کو پکڑوا کر اس آگ میں ڈالنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ ستتر 77 مومنین کو اُس آگ میں جلا ڈالا۔ آخر میں ایک ایمان والی عورت اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے آئی اور جب بادشاہ نے اُس کو آگ میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو وہ کچھ گھبرائی تو اس کے دودھ پیتے بچے نے کہا کہ اے میری ماں! صبر کر تو حق پر ہے۔ بچے کی آواز سن کر اس کے ماں کا جذبہ ایمانی بیدار ہو گیا اور وہ مطمئن ہو گئی۔ پھر ظالم بادشاہ نے اس مومنہ کو اُس کے بچے کے ساتھ آگ میں پھینک دیا۔
بادشاہ اور اُس کے ساتھی خندق کے کنارے مومنین کے آگ میں جلنے کا منظر کرسیوں پر بیٹھ کر دیکھ رہے تھے اور اپنی کامیابی پر خوشی منا رہے تھے اور قہقہے لگا رہے تھے کہ ایک دم قہر ِ الٰہی نے ظالموں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اور وہ اس طرح کہ خندق کی آگ کے شعلے اس قدربھڑک کر بلند ہوئے کہ بادشاہ اور اُس کے ساتھیوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سب کے سب لمحہ بھر میں جل کر راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور باقی تمام دوسرے مومنین کو اللہ تعالیٰ نے کافراور ظالم کے شر سے بچالیا۔
(تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۳۳۹۔۲۳۴۰، پ ۳۰،البروج:۴۔ا ۷ )
اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے:۔
قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوۡدِ ۙ﴿4﴾النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوۡدِ ۙ﴿5﴾اِذْ ہُمْ عَلَیۡہَا قُعُوۡدٌ ۙ﴿6﴾وَّ ہُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوۡنَ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ شُہُوۡدٌ ؕ﴿7﴾ (پ30،البروج:4۔7)
ترجمہ:کھائی والوں پر لعنت ہووہ اس بھڑکتی آگ والے جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے تھے اور وہ خود گواہ ہیں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کررہے تھے۔
اس واقعہ سے یہ ہدایت کا سبق ملتا ہے کہ عموماً خدا کی طرف سے امتحان ہوا کرتا ہے اور بوقت امتحان مومنوں کا بلاؤں اور مصیبتوں پر صابر و شاکر رہنا ہی اس امتحان کی کامیابی ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان کامل کی یہی نشانی ہے کہ مومن خدا عزوجل کی راہ میں پڑنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں سے گھبرا کر کبھی بھی اُس میں تذبذب نہیں پیدا ہوتا، بلکہ مومن خواہ پھولوں کے ہار کے نیچے ہو یا تلوار کے نیچے، پانی میں غرق کیا جائے یا آگ کے شعلوں میں جلایا جائے ہرحال میں بہرصورت وہ اپنے ایمان پر استقامت و استقلال کے ساتھ پہاڑ کی طرح قائم رہتا ہے اور اس کا خاتمہ ایمان ہی پر ہوتا ہے۔ یہ وہ سعادت عظمیٰ ہے کہ جس کو نصیب ہوجائے اس کی خوش بختیوں کی معراج ہوجاتی ہے اور وہ خدا عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وہ قرب حاصل کرلیتا ہے کہ آسمانوں کے فرشتے اس کے اعلیٰ مراتب کی سربلندیوں کے مداح اور ثناء خواں بن جاتے ہیں۔
مایا تہذیب (Maya civilization) ایک قدیم میسوامریکی تہذیب ہے جو شمال وسطی امریکہ میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس علاقے میں آجکل میکسیکو، ہونڈوراس، بیلیز اور گوئٹے مالا کی ریاستیں موجود ہیں۔مایائی تہذیب کو ترقی یافتہ دور و تہذیب کا درجہ دیا جاتا ہے۔۔مایائی تہذیب کا راج1300قبل از مسیح سے300 تک کے درمیانی عرصہ میں تھا۔مایائی لوگ و تہذیب پانچ لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے تھے۔یہ توہم پرست لوگ تھے کیونکہ وہ سورج ،زمین ،بارش ،اگ و پانی کو دیوتا کا درجہ دیتے تھے۔ یہ مایائی مفکرین تھے جنہوں نے سال کو کچھ دنوں کے فرق سے365 دنوں میں تقسیم کیا تھا۔یوں یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کا فلکیاتی علم اور تخیل کتنا نفیس بابصیرت اور وسیع الخیال تھا۔وہ سورج چاند کی گردش پر سیر حاصل معلومات رکھتے تھے۔مایائی تہذیب کے وارث آج بھی جزیرہ نمائے یوکاٹن پر موجود ہیں۔

اس دوران انہوں نے بڑے علاقوں میں شہری تعمیرات کی۔ اسی دور میں انہوں نے یادگاری تحریریں چھوڑیں اور اسی دور میں انہوں نے اپنی تہذیب اور تمدن کو باقاعدہ ریکارڈ کیا۔ مایا تہذیب میسو امیریکن کی دیگر اقوام سے یوں ممتاز تھی کہ انہوں نے بہت پہلے لکھنا سیکھ لیا تھا۔ ان کا اپنا طرز تحریر تھا۔ اس کے علاوہ ریاضی میں بھی ان کی ترقی حیرت انگیز تھی نہ صرف یہ کہ انہوں نے نمبروں کو لکھنا سیکھ لیا تھا بلکہ یہ صفر کے استعمال سے بھی واقف تھے۔
فلکیات، طبیعیات، جراحت اور ذراعت میں ان کی ترقی حیران کن تھی۔ ان کی تہذیبی اور ثقافتی برتری نے اردگرد کی دیگراقوام کو بھی متاثر کیا، یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ ہسپانوی نوآبادکار ان علاقوں میں پہنچی اور مایا تہذیب کو بزور طاقت زوال پذیر ہونے پر مجبور کیا گیا۔ مایا اقوام کے صحائف ڈھونڈ ڈھونڈ کر جلائے گئے، ان کی تعمیرات کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کی زبان اور مذہبی رسومات کو شیطانی قرار دے دیا گیا۔
مایا تہذیب زوال پذیر ہوئی مگر مایا قوم کی اولادیں آج بھی میسو امریکن علاقوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سارے لوگ ابھی بھی مایا مذہب کی بہت سی رسومات پر عمل کرتے ہیں مگر مایا کے پیچیدہ رسم الخط کو وہ بھول چکے ہیں۔
1988ء میں انسان نے سمندر کے تہہ میں ہی ابدی زندگی کا وجود رکھنے والے ایک جاندار کو دریافت کر لیا جیسے جیلی فش کہتے ہیں۔یہ دریافت بیسویں صدی میں ایک عیسائی جرمن سمندری حیاتیات کے طالب علم نے نادانستہ طور پر تلاش کی۔
جیلی فش کی کچھ ایسی اقسام ہیں جن کوبیالوجی کی حد تک لافانی ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے، جو کہ زخمی حالت یا مرنے سے قبل اپنے خلیات کو پہلے کی حالت میں لانے کے قابل بنا کے خود کو دوبارہ زندہ کر لیتی ہے. اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چار سے پانچ ملی میٹر کا جاندار ممکنہ طور پر لامحدود زندگی رکھتا ہے.اس جاندار کا سائنسی نام ٹیوریٹوپسس نیٹریکیولاہے اور یہ پہلی بار 1883ء میں بحیرہ روم کے سمندر میں دریافت کئے گئے تھے، لیکن ان کی دوبارہ سے جنم لینے کی انوکھی خوبی 1990ء کے وسط صدی تک کسی کو علم نہیں تھا۔

تحقیق کے مطابق زندگی کو سائیکل کرنے میں ہائیڈرزون کا انحصار چھوٹے فقاری کی موجودہ عمر پر منحصر ہے چاہے وہ جیلی فش کا دوبارہ سے جوان ہونا ہو یا نرم مرجان کا دوبارہ تروتازہ ہونا. سائنس دانوں نے سمندر کی تہوں میں ہائیڈروزون کی تلاش میں پلینکٹن جال سے چھان مارا اور حیاتیات کی نئی سینکڑوں چھوٹے نسبتاً گمنام جاندار ڈھونڈ نکالے جو کہ اب بیالوجی میں جیلی فش اور ڈوھری کے نام سے جانے جاتے ہیں.ان حیاتیاتی نمونوں کا مشاہدہ کرنے پر ایک حیران کن بات پتہ چلی کہ جیلی فش مرتی نہیں۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر ایک ٹیوریٹوپسس ( جیلی فش ) کسی حادثے کا شکار ہو جائے یا بھوک سے کمزور ہو جائے تو یہ سمندری ریت میں خود کو لپیٹ لیتا ہے اور ایک بلاب کی شکل میں خود کو ڈھال لیتا ہے، اس کے بعد یہ ایک تعامل کرتا ہے جسے سائنسی زبان میں سیلز انڈر گو ٹرانسڈیفرینیشن کا نام دیا گیا ہے جس میں خلیات کی ایک اقسام بنیادی طور پر خلیات کی دوسری اقسام میں تبدیل ہو جاتی ہیں.
اعضاء کے خلیات مادہ منویہ یا انڈوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں یا پھر اعصابی خلیے اعضاء کے خلیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔کسی بھی جاندار میں اس طرح سے خلیات کی تبدیلی کا بلاشبہ یہ ایک بیمثال طریقہ ہے.‘‘انواع کی اصل’’ سے اقتباس جو 1996ء میں شائع ہوئی۔ جاپان، سپین اور بحر اوقیانوس میں پانامہ کی طرف جیلی فش کی دریافت کے سے پتہ چلا ہے کہ جینیاتی طور پر تمام جیلی فش اپنے اصل مسکن جیسی ہی ہیں.
محققین نے تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پانی میں فوجی مشقوں سے کئے گئے دھماکوں سے، کارگو جہاز میں لگے پانی کے پمپس میں پانی کے کھنچاؤ سے لگنے والی ضرب سے زخمی ہوتی ہیں.جیلی فش ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی خوبی بھی رکھتی ہیں مثال کے طور پہ معتدل علاقوں میں رہنے والی جیلی فش میں 24 ٹینٹاکلز یا اس سے کچھ زیادہ ہیں اور گہرے پانیوں میں رہنے والی جیلی فش میں 8 ٹینٹاکلز ہیں.لیکن جیلی فش مناسب حالات نہ ہونے کی بنا پر شکار بھی ہو سکتی ہیں اور شکار یا بیمار ہوتی بھی ہیں اور مر بھی جاتی ہیں.
جدید تحقیق بتاتی ہے جس طرح ‘‘بریڈ پٹ’’ کی ایک فلم میں جیلی فش کا کردار خود کو بڑھاپے سے واپس بچہ بنا لیتا ہے اور امر ہو جاتا ہے لیکن اصل زندگی میں جیلی فش اس کردار سے دو ہاتھ آگے ہے کیونکہ وہ یہی عمر کو بڑھاپے سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کے عمل ایک بار نہیں بلکہ بار بار لگاتار تبدیل کرتا ہی رہتا ہے.سائنسدانوں نے جیلی فش کو دنیا کا واحد معلوم امر رہنے والا جاندار قرار دیا ہے. اسی طرح انسانی عمر میں اضافے، بیماری یا دوسرے خلیاتی مسائل کے حل کے لئے جیلی فش پر تحقیقی مطالعہ جاری ہے۔
موسمِ بہار کی آمد آمد تھی اور موسم کافی خوشگوار تھا-
شہر کے حالات جاننے کےلئے ہم ہم موتی بازار سے مستی گیٹ بازار کی طرف باپیادہ جا رہے تھے- بازار بالکل سنسان پڑے ہوئے تھے- دور سنہری مسجد کی طرف سے کچھ نعروں کی آواز سنائ دے رہی تھی- شاید کوئ جلوس آ رہا تھا-
اس دوران اچانک فائرنگ کی تڑتڑاہٹ سے فضاء گونج اُٹھی- بے شمار پرندے جھاڑیوں سے اُڑ کر فضاء میں چکّر لگانے لگے- اس کے ساتھ ہی ایک عجیب بے ھنگم شور سنائ دیا-
ہم صورتحال جاننے کےلئے ہٹہ بازار کی طرف دوڑے تو سامنے سے ایک سول وین مستی گیٹ بازار طرف مُڑی-
"سائیڈ پکڑو ..... سائیڈ ... " چاند پُوری چلائے-
ہم نے جلدی سے ایک دیوار کی اوٹ لی اور ایک چھید سے باہر دیکھنے لگے - وین ہم سے کوئ دو سو قدم کے فاصلے پر آ کر رُکی - اس میں لمبے بالوں والے تین چار جوان نکلے جنہوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں- انہوں نے دیوار کی سمّت دو تین اندھا دھند بلٹ فائر کئے اور گاڑی میں بیٹھ کر رفوچکّر ہو گئے- دونوں گولیاں قریبی دوکان کے فرنٹ پر لگیں اور کچھ فرش اکھڑ کر ہمارے اوپر آن گرا-
"کیا ہو رہا ہے یہ ..... " میں نے پھولی سانسوں میں کہا- " فوجی ہمیں کیوں مار رہے ہیں ؟؟ "
"فوجی نہیں .... خلیفہ کے رضاکار ہیں ... وہی ہوا جس کا ڈر تھا ... "
"کیا ہوا ؟؟ "
"شہر میں قتل و غارت کا ٹھیکہ مرزائیوں کو مل گیا ... چلو اب نکلو یہاں سے "
ہٹّہ بازار میں ہمیں صرف ایک ہی ذی روح نظر آئ- پینٹ کوٹ والا ایک بوڑھا کرسچیئن جو کُچھّا گراں کی طرف بھاگ رہا تھا- اس کے گلے میں پڑی صلیب بری طرح جھول رہی تھی-
"یہ مسٹر گین کیا کر رہے ہیں ادھر ؟؟ " چاند پوری بڑبڑائے-
"مسٹر گین ؟؟ "
"لاہور بلدیہ کا انچارج ہے .... ایک منٹ .... مسٹر گین .... مسٹر گین ... " انہوں نے آواز لگائ-
مسٹر گین یکایک رُکے .... گلے میں پڑی صلیب کو چوما اور چلائے " اٹس سینٹ بار تھیلومیو ڈے .... رن اوے"
اس بعد وہ ہولی جوسس ... ہولی جوسس کرتے ایک گلی میں گھٌس گئے-
"سینٹ بار تھیلومیو ڈے .... ؟؟ "
"ریاست اور مذھب کے بیچ ہونے والی سب سے بڑی جنگ .... جس میں ہزاروں پادروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا .... اللہ پاکستان پر رحم فرمائے !!! "
ہم موتی مسجد کے قریب پہنچے تو سڑک پر خون ہی خون پڑا تھا-
وہ دن لاہور کی تاریخ میں سینٹ بار تھیلومیو ڈے ہی تھا- پولیس نے بھی اس روز دِل کھول کر فائرنگ کی اور پراسرار جیپ پر سوار قادیانی دھشت گرد بھی شرح صدر سے گولیاں چلاتے رہے- سارا دن پولیس گولیوں اور سنگینوں سے تحریک کو ٹھنڈا کرتی رہی اور مسلمان خونِ جگر دیکر عقیدہء ختم نبوّت کی آبیاری کرتے رہے- صبح صبح بھاٹی دروازے کے قریب سے گزرنے والے ایک جلوس کو پُولیس نے کرفیو کی خلاف ورزی قرار دیکر بھون ڈالا- اس کے بعد نولکھا بازار ، سرکلر روڈ ، بیرون دہلی دروازہ ، ٹولٹن مارکیٹ ، میکلو روڈ ، نسبت روڈ اور موچی دروازہ سے گزرنے والے جلوسوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے شرکاء کے قلب و جگر کو چھید دیا گیا-
پورا لاہور فائرنگ کی تڑتڑاہٹ سے گونج رہا تھا- پولیس باؤلے کُتّے کی طرح تاک تاک کر نشانے باندھ رہی تھی- جگہ جگہ ختمِ نبوّت کے پروانوں کے لاشے تڑپ رہے تھے- رات دیر گئے تک حق و باطل کا یہ معرکہ جاری رہا اور اہلِ حق اپنے سینوں پر گولیاں کھا کھا کر شہادت کے جام پیتے رہے- پولیس لاشیں اٹھا اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کرتی رہی-
مسجدِ وزیر خان سے بعد نمازِ مغرب 25 عاشقوں صادقوں کے جنازے اٹھائے گئے-
تا ابد چمکیں گے یہ نور کے ہالے تیرے
ہاتھ باندھے ہیں کھڑے چاہنے والے تیرے
معرکہء بدر و احد اور کبھی کرب و بلا
کیسے اندازِ محبت ہیں نرالے تیرے
رات ہوئ تو لوگ گھروں کی چھتّوں پر چڑھ کر اذانیں دینے لگے- لاہور میں کوئ گھر ایسا نہ تھا جہاں شہداء کا ماتم بپا نہ ہوا ہو- پورا شہر شوروغوغا کا ایک ھنگامہ زار بنا ہوا تھا- رات بھر دور دور تک مہیب اور ھولناک شور کی آوازیں سنائ دیتی رہیں-
رات ایک بجے ہوم سیکرٹری ، آئ جی ، ڈی آئ جی ، جنرل اعظم ، اور بعد دوسرے فوجی افسران وزیرِ اعلی کی کوٹھی پر پہنچ گئے- وزیِر اعلی انتہائ بے تابی سے ان سب کا انتظار کر رہے تھے- ادھر یہ لوگ پہنچے ، ادھر اجلاس شروع ہو گیا-
"ٹُو منٹس سائلنس ... ان دی گریف آف مارٹائر ... ڈی ایس پی سیّد فردوس شاہ" وزیرِ اعلی نے کہا اور سب لوگ سوکھی توری کی طرح مونہہ لٹکا کر بیٹھ گئے-
دو منٹ کی مہیب خاموشی کے بعد وزیراعلی نے سکوت توڑا-
" آج کا دِن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے .... شرپسندوں نے دِن دیہاڑے .... ایک بہادر ڈی ایس پی کو نہ صرف موت کے گھاٹ اتارا .... بلکہ اس کی لاش بھی مسخ کر دی- ثابت ہوا کہ اس تحریک کا مقصد ملک میں قتل و غارت گری کے سوا کچھ نہیں- لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ پولیس اور فوج مل کر بھی ، شہر کو ان شرپسندوں سے خالی نہیں کرا سکے .... میں پوچھنا ہوں آخر کیوں ؟؟ .... ویئر اِز دی پرابلم ؟؟"
" سر دوپہر سے لیکر اب تک پولیس مسلسل گولیاں چلا رہی ہے ..." آئ جی نے کہا- " ہم دس کو مارتے ہیں ... اس کی جگہ بیس اور آن کھڑے ہوتے ہیں ... دِس از ریڈیکولس ... آئ تِھنک ... ناؤ ملٹری شُولڈ کمپلیٹلی ٹیک اوور دی چارج !!!"
" کیوں جرنل صاحب ... آر یو ریڈی ٹو کم اپ ان دی فرنٹ ؟؟" وزیرِ اعلی نے پوچھا-
جنرل اعظم نے جیب سے کچھ کاغذات نکالے ، اور نظر کا چشمہ درست کرتے ہوئے گویا ہوئے :
" سر پہلے میں آپ کو مِلٹری ایڈ ٹو سول پاور کی وضاحت کر دوں .... "
"دیکھئے جنرل صاحب یہ قانونی وضاحتوں کا وقت نہیں ... اِٹس وار !!! .... اب فوج کو توپ وتفنگ سمیت میدان میں اترنا چاھئے ... اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہر گلی ، ہر چوک میں ایک پولیس افسر کی لاش پڑی ہو گی ..."
" سر توپ خانہ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں دشمن بھاری ہتھیار لئے سامنے کھڑا ہو .... کراؤڈ کے ہاتھ میں بوتلیں اور ڈنڈے ہیں .... طاقت کے بے جا استعمال سے مسائل پیدا ہونگے" جنرل نے کہا-
" ٹھیک ہے .... لیکن سم ون ہیو ٹو ڈو سم تِھنگ فار دِس بُل شٹ !!! اس تحریک کو سختی سے کُچلنا ہماری مجبوری ہے .... ورنہ کل کوئ اور تحریک اُٹھ کھڑی ہو گی .... برٹش راج کو بھی ان ملاؤں نے پریشان کئے رکھا .... اور اب پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تُل گئے ہیں .... "
" سر.... آئین کے مطابق فوج جو کردار ادا کر سکتی ہے ، کر رہی ہے .... امن و امان کی بنیادی ذمّہ داری پولیس کی ہی ہے ... بارڈر پولیس بھی اس کے ساتھ ہے .... اگر کسی ایریا میں حالات پولیس کی دسترس سے باہر ہو گئے تو فوج آٹومیٹیکلی وہاں ٹیک اوور کر لیگی .... !!! "
"حیرت ہے !!! یعنی آپ کے خیال میں اب تک کے حالات بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں ؟؟ " آئ جی نے کہا-
" آف کورس .... سوائے ایک پرتشدد واقعے کے اور کچھ نہیں ہوا ... کہیں کوئ پراپرٹی ، کوئ گاڑی نہیں جلی ... کوئ توڑ پھوڑ نہیں ہوئ .... ان حالات میں طاقت کا اتنا ہی استعمال کیا جائے جتنا مناسب ہے"
مسجدِ وزیرخان سے اذان فجر بلند ہوئ تو یہ اجلاس ختم ہوا-

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers